افغان سیکیورٹی و سیاسی صورتحال پیچیدہ، دہشتگردگروہ سرگرم: رپورٹ

Calender Icon منگل 24 فروری 2026

ماسکو(ویب ڈیسک) روسی وزارتِ خارجہ کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ افغانستان میں سیکیورٹی اور سیاسی صورتحال بدستور پیچیدہ ہے اور دہشت گرد نیٹ ورکس سرگرم ہیں ۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 20 ہزار سے 23 ہزار دہشت گرد جنگجو موجود ہیں جن میں نصف سے زائد غیر ملکی شامل ہیں، افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی علاقائی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ ہے۔ داعش کے تقریباً 3 ہزار جبکہ ٹی ٹی پی کے 5 سے 7 ہزار دہشت گرد افغان سرزمین پر موجود ہیں ۔

ٹی ٹی پی افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جس سے پاک-افغان تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، القاعدہ، ETIM (TIP) اور دیگر دہشت گرد گروہ افغانستان میں تربیتی مراکز اور نیٹ ورکس چلا رہے ہیں، افغانستان القاعدہ کے لیے علاقائی روابط اور تربیت کا اہم مرکز بنا ہوا ہے ۔

القاعدہ کے تربیتی مراکز افغان صوبو ں غزنی، لغمان، کنڑ، ننگرہار، نورستان، پروان اور ارزگان میں موجود ہیں، داعش خراسان افغانستان کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں مضبوط نیٹ ورک قائم کیے ہوئے ہے ، داعش کا طویل المدتی ہدف وسطی ایشیا تک پھیل کر نام نہاد خلافت قائم کرنا ہے۔

جنوری 2026 میں کابل کے چینی ریسٹورنٹ پر دھماکہ، داعش کی موجودگی کا ثبوت ہے ، افغانستان میں مصنوعی منشیات کی اسمگلنگ میں اضافہ ۔Methamphetamine افغانستان سے بیرون ملک سب سے زیادہ اسمگل ہونے والی منشیات ہے۔

روسی وزارتِ خارجہ کے مطابق افغانستان کی صورتحال خطے کے امن و استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔