اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں نے طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کی جانب سے اسلام کی مبینہ گمراہ کن تشریح پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہب کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا قابلِ مذمت ہے۔
شہریوں نے اپنے پیغامات میں کہا کہ افغان طالبان رجیم اور خوارج نے ہمیشہ مذہب کو اپنے مذموم مقاصد کے فروغ کے لیے استعمال کیا اور دین کا لبادہ اوڑھ کر معاشرے میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر کا اسلام اور اس کی حقیقی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج مذہب کی غلط تشریح کے ذریعے کمزور اور پسماندہ طبقات کو گمراہ کرتے ہیں اور انہیں خودکش حملوں جیسے پرتشدد اقدامات پر اکساتے ہیں۔
شہریوں کے مطابق پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بیرونی عناصر اور طالبان رجیم کے درمیان گٹھ جوڑ بھی شامل ہے، جبکہ یہ گروہ جہاد کی مسخ شدہ تشریح پیش کر کے خطے میں بدامنی کو فروغ دے رہے ہیں۔
عالمی ماہرین کے مطابق نہتے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور ایسے گروہ عالمی امن، انسانی حقوق اور خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم نے دین کی من گھڑت تشریح کو خوف، جبر اور اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بنا لیا ہے، جس کے باعث افغانستان اور پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو رہا ہے۔












بدھ 18 مارچ 2026 