عید کے موقع پر سیروتفریح کے بہترین مقام کون سے ہیں؟

Calender Icon جمعہ 20 مارچ 2026

لاہور (ویب ڈیسک)عید الفطر کے موقع پر جہاں گھروں میں خوشیوں اور میل ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے وہیں بہت سے لوگ اس موقع کو سیر و تفریح کے لیے بھی خوشگوار سمجھتے ہیں۔ خاندان کے ساتھ مختصر سفر یا شہر کے خوبصورت مقامات کی سیر نہ صرف عید کی خوشیوں کو مزید بڑھا دیتی ہے بلکہ بچوں اور بڑوں دونوں کو روزمرہ مصروفیات سے ایک خوشگوار وقفہ بھی فراہم کرتی ہے۔
عید کی تعطیلات کے دوران یہ مقامات مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں اور لوگوں کو قدرت کے قریب وقت گزارنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

قلعہ پھروالہ:
اسلام آباد سے قریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قلعہ پھروالہ ایک تاریخی مقام ہے جو گکھڑ حکمرانوں کے دور کی یاد دلاتا ہے، اس مقام کی خاموشی اور تاریخی اہمیت ایک منفرد تجربہ فراہم کرتی ہے۔

ننگما ویلی:
قراقرم کے پہاڑوں میں واقع ننگما ویلی ایک ابھرتا ہوا سیاحتی مقام ہے جو ٹریکنگ کے شوقین افراد کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ یہاں بلند پہاڑی چوٹیاں، گلیشیئرز اور بلتی ثقافت کا حسین امتزاج موجود ہے۔ ویزا پالیسی میں نرمی کے بعد یہ علاقہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی زیادہ قابل رسائی ہو گیا ہے۔

2025 میں ٹائم میگزین نے اسے دنیا کے بہترین سیاحتی مقامات میں شامل کیا۔ مئی سے ستمبر تک یہاں ٹریکنگ اور کیمپنگ کا بہترین موسم ہوتا ہے اور اسکردو سے جیپ یا پیدل یہاں پہنچا جا سکتا ہے۔

سون ویلی:
پنجاب کے ضلع خوشاب میں واقع سون ویلی ایک خوبصورت مگر کم مشہور سیاحتی مقام ہے، یہ سرگودھا، میانوالی ہائی وے سے منسلک ہے اور یہاں جھیلیں، پہاڑی مناظر اور جنگلی حیات پائی جاتی ہے۔

سیاح یہاں ہائیکنگ، فشنگ اور قدرتی سکون سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ وادی کی بلند جھیلیں اور بہار میں کھلنے والے الپائن پھول اس کی خاص کشش ہیں۔

گوادر:
بلوچستان کا ساحلی شہر گوادر اپنی قدرتی خوبصورتی اور ساحلی مناظر کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ حاصل کررہا ہے۔ مکران کوسٹل ہائی وے کے ذریعے یہاں سفر کے دوران ہیمر ہیڈ راک فارمیشن اور آسٹولا آئی لینڈ جیسے مقامات دیکھے جا سکتے ہیں۔ سنورکلنگ، فشنگ اور دیگر واٹر ایکٹیویٹیز بھی یہاں ممکن ہیں۔ اسے بلوچستان کا مستقبل کا دبئی بھی کہا جاتا ہے اور یہاں بلوچ، سندھی اور عمانی ثقافتوں کا امتزاج پایا جاتا ہے۔

شاہدرہ:
اسلام آباد کے قریب واقع شاہدرہ ایک خوبصورت وادی ہے جہاں ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے بہتے ہیں۔ یہاں کے ریسٹورنٹس اور اسٹال مالکان نے اپنی میزیں اور کرسیاں بہتے ہوئے چشموں کے عین وسط میں لگائی ہوئی ہوتی ہیں جہاں سے ریفریشمنٹ کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ یہاں کی فضا میں ایک خاص سکون اور قدرتی خوبصورتی ہے جو موسم گرما میں مزید دلکش ہو جاتی ہے۔

ہنگول نیشنل پارک:
بلوچستان کے مکران کوسٹل علاقے میں واقع ہنگول نیشنل پارک پاکستان کا سب سے بڑا نیشنل پارک ہے جو قریباً 6100 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ 1998 میں قائم ہونے والا یہ پارک منفرد راک فارمیشنز جیسے پرنسس آف ہوپ اور ساحلی مناظر کے لیے مشہور ہے۔ یہاں مختلف پودے، جانور، پرندے اور رینگنے والے جاندار پائے جاتے ہیں، جن میں سندھی آئی بیکس، چنکارا، مارخور اور گرین ٹرٹلز شامل ہیں۔ یہ علاقہ ایکو ٹورازم کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

رانی کوٹ قلعہ:
سندھ کے ضلع جامشورو میں واقع رانی کوٹ قلعہ دنیا کے سب سے بڑے قلعوں میں شمار ہوتا ہے اور اسے دی گریٹ وال آف سندھ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی دیواریں قریباً 32 سے 40 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہیں۔

کراچی سے قریباً 90 کلومیٹر دور واقع یہ تاریخی قلعہ حالیہ برسوں میں سیاحت کا اہم مرکز بن گیا ہے اور یہاں گائیڈڈ ٹورز اور کیمپنگ کی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

چاپرسن ویلی:
شمالی پاکستان میں واقع چاپرسن ویلی واکھی لوگوں کی ثقافت اور خانہ بدوش چرواہوں کی زندگی کی جھلک پیش کرتی ہے۔ یہ وادی واہان کوریڈور اور چین کی سرحد کے قریب ہے اور اس کی بلندی 3 ہزار سے 4700 میٹر تک ہے۔ یہاں چراگاہیں، گلیشئرز اور نایاب جنگلی حیات پائی جاتی ہے۔ ایکو ٹورازم اور کنزرویشن منصوبوں کے باعث یہ وادی ایڈونچر سیاحوں میں مقبول ہورہی ہے۔

خانپور ڈیم:
اسلام آباد سے قریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع خانپور ڈیم نہ صرف پانی کا ذخیرہ ہے بلکہ واٹر اسپورٹس کا مشہور مقام بھی بن چکا ہے۔

یہاں کشتی رانی، جیٹ اسکی اور zip-lining جیسے ایڈونچر سے بھرپور سرگرمیاں دستیاب ہیں اور موسم گرما میں یہاں جانے کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔

کند ملیر بیچ:
بلوچستان کے ساحل پر واقع کند ملیر بیچ اپنی سنہری ریت، صاف نیلے پانی اور خوبصورت پہاڑی مناظر کے لیے مشہور ہے۔ یہ ہنگول نیشنل پارک کے قریب واقع ہے اور دنیا کے خوبصورت ساحلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ کم ہجوم اور قدرتی سکون کی وجہ سے یہ کراچی سے ویک اینڈ ٹرپس کے لیے مقبول بنتا جا رہا ہے۔

نیلا سانڈھ آبشار:
نیلا سانڈھ آبشار اسلام آباد سے قریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اپنی نیلے پانی کی جھیل اور سرسبز پہاڑیوں کے لیے مشہور ہے۔

الام پاس ٹریک:
الام پاس ٹریک گلگت بلتستان میں اسکردو اور استور کو ملانے والا ایک مشکل مگر خوبصورت ٹریکنگ روٹ ہے جو قریباً 4800 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں برف پوش چوٹیاں، جھیلیں اور خاموش وادیاں دلکش منظر پیش کرتی ہیں۔ ٹریکرز یہاں کیمپنگ، فوٹوگرافی اور ہائی الٹیٹیوڈ ٹریننگ کا بھی تجربہ کرتے ہیں۔

تلہ جوگیاں اور کوٹلی ستیاں:
اگرچہ یہ مقام اسلام آباد سے کچھ فاصلے پر ہیں مگر کوٹلی ستیاں اور تلہ جوگیاں جیسے پہاڑی علاقے ہائیکنگ، قدرتی چشموں اور ہری بھری وادیوں کے لیے مشہور ہیں۔ ایڈوینچر کے شوقین افراد کے لیے یہ جگہیں نہایت پرکشش ہیں۔

نیشتر گھاٹ اور گٹ بیری جھیل:
سندھ کے اندرونی علاقوں میں واقع نیشتر گھاٹ دریائے سندھ کا ایک تاریخی مقام ہے جہاں نایاب انڈس ریور ڈالفنز پائی جاتی ہیں۔ اس کے قریب گٹ بیری جھیل ایک پرسکون قدرتی مقام ہے جو سرسبز کھیتوں سے گھرا ہوا ہے۔ یہ علاقے ایکو ٹورازم کے لیے اہم بن رہے ہیں جہاں سیاح بوٹنگ، فشنگ اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

سملی ڈیم:
راول ڈیم کے مقابلے میں نسبتاً کم مشہور مگر زیادہ قدرتی خوبصورتی کا حامل یہ ڈیم اسلام آباد کے مضافات میں واقع ہے۔ یہاں کا نیلا پانی، پہاڑوں سے گھرا ماحول اور کم ہجوم والے راستے اسے ’پرسنل ایڈونچر‘ کے لیے بہترین بناتے ہیں۔