لبنان جنگ بندی کا حصہ، مذاکرات جلد ٹھوس نتیجے تک پہنچیں گے،ڈاکٹر فیصل

Calender Icon جمعرات 9 اپریل 2026

لندن (نیوزڈیسک)برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل کا برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو خصوصی انٹرویو۔مجھے پورا اعتماد اور امید ہے کہ اس ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات جنگ بندی کو ایک مستقل معاہدے میں تبدیل کر سکتے ہیں۔پاکستان کی قیادت نے امن کی اس خواہش کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جو آج سے 38 دن قبل موجود نہیں تھی، مجھے امید ہے کہ یہ خواہش کسی ٹھوس نتیجے تک پہنچے گی، دونوں فریقین کے درمیان خاصا فاصلہ موجود تھا، دونوں فریقین میں مسئلے کے حل کی سنجیدہ خواہش دیکھ رہا ہوں۔ وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار عملی طور پر کئی دنوں سے24 گھنٹے اس معاملے پر کام کر رہے ہیں، دفترِ خارجہ بھی ان کی مکمل معاونت کر رہا ہے، اور گزشتہ دس دن نہایت مصروف اور اہم رہے ہیں۔ پاکستان کو یقین ہے کہ یہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے لبنان اور جنگ بندی کے حوالے سے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے، اور لبنان کا خاص طور پر ذکر کیا ہے،۔ لبنان اس جنگ بندی کا حصہ ہے، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار چند روز قبل چین کے دورے پر تھے، جہاں چینی قیادت نے اس جنگ کے خاتمے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ یقیناً دونوں فریقین کے درمیان چیلنجز اور اختلافات موجود ہیں، تاہم ہم پرامید ہیں اور دونوں فریقین کی مثبت نیت پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ مثبت نیت کے ساتھ ہی مسائل کا حل ممکن ہوتا ہے جس شخص سے بھی میری ملاقات ہو رہی ہے، ان سب کی خواہش ہے کہ اس مسئلے کا کوئی حل نکالا جائے، یہ ایک عمومی خواہش ہے۔اعتماد کی فضا قائم کرنے میں وقت لگتا ہے، اور ایران اور امریکہ کے درمیان اعتماد بھی بتدریج قائم ہوگا، ایران ـ پاکستان اور امریکہ – پاکستان کے درمیان اعتماد موجود ہے، اسی بنیاد پر وہ اسلام آباد میں مذاکرات کیلیے آ رہے ہیں،۔ ہم خطے میں پائیدار امن اور مؤثر حل کے خواہاں ہیں؛ سفارتی یا قلیل مدتی کامیابی پاکستان کا مقصد نہیں ہے۔