پچھلے تین چار سال میں 100 ارب پاکستان سے باہر گئے، محسن نقوی

Calender Icon منگل 14 اپریل 2026

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی (Mohsen Naqvi)نے کہا ہے کہ پچھلے تین چار سال میں پاکستان سے 100 ارب ڈالر باہر گئے، تاجر اگر آج فیصلہ کرلیں تو بجٹ سے پہلے 10 ارب ڈالر آجائیں گے۔ تاجروں سے درخواست ہے کہ 30 فیصد پیسہ ہی واپس لے آئیں۔

کراچی میں فیڈریشن ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے تاجروں سے درخواست کی کہ وہ بجٹ سے پہلے اپنی رقوم لے کر آئیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان جو منافع دیتا ہے وہ دنیا میں کہیں نہیں ملے گا، آپ کو کاروباری ماحول ملے گا، تاجروں کے ویزوں سے متعلق جلد تجاویز وزیراعظم کو پیش کریں گے۔

محسن نقوی نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک کو سنوارنا ہے، مواقع سے فائدہ اٹھانا ہے، ایف آئی اے کے معاملات کو بزنس فرینڈلی کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کوئی بات کرتے ہیں یا زبان دیتے ہیں تو اس کو پورا کرتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک یا دو فیصد لوگوں کی وجہ سے پوری بزنس کمیونٹی کو سزا نہیں دے سکتے۔

مزیدپڑھیں:ایران، امریکا مذاکرات میں جس نے جو کردار ادا کیا ہم سراہتے ہیں، بیرسٹر گوہر

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے تین چار سالوں میں 100 ارب پاکستان سے باہر گئے ہیں، پیسہ باہر کیسے گیا؟ اس پر بات نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پتہ نہیں لگایا جاسکتا تو کراچی میں ایک دو بندوں کو اٹھانے کی دیر ہے سارا کچھ پتہ چل جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نہیں کہتے کہ دبئی یا باہر پڑے ہوئے سارے واپس لے آئیں، روشن اکاؤنٹ کے تحت باہر پڑا ہوا 20 یا 30 فیصد پیسہ واپس لے آئیں۔ اگر آپ 20 یا 30 فیصد پیسہ پاکستان واپس لائیں گے تو وہ 10 ارب ڈالرز سے زیادہ ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ منی چینجز صرف اس لیے رکھے ہیں کہ اپنے پیسوں کا بندوبست کرسکیں، کوئی سیاح آکر منی چینجر سے پیسے چینج نہیں کرواتا۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کراچی میں بڑے گروپس کی ٹرانزیکشنز پکڑی ہیں، جن سے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ ہم نے وزیر خزانہ سے بھی میٹنگ کی ہے کہ آپ ان سے پوچھیں کہ یہ منی چینجز کیا کر رہے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کی ریٹنگ 99 سے 50 پر لے آئیں۔