ایران نے چینی جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، خفیہ دستاویزات میں انکشاف

Calender Icon بدھ 15 اپریل 2026

برطانوی اخبار فنانشنل ٹائمز (Financial Times) کے مطابق ایران نے چینی جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

برطانوی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 کے اواخر میں یہ چینی سیٹلائٹ “TEE-01B” پاسداران انقلاب گارڈز کی ایرو اسپیس فورس نے حاصل کی تھی، سیٹلائٹ چین سے خلا میں بھیجے جانے کے بعد ایران کے حوالے کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی فوجی کمانڈرز نے اس سیٹلائٹ کو اہم امریکی فوجی تنصیبات کی نگرانی کے لیے استعمال کیا، سیٹلائٹ تصاویر مارچ میں ان مقامات پر ڈرون اور میزائل حملوں سے قبل اور بعد میں حاصل کی گئیں۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ائیر بیس کی 13، 14 اور 15 مارچ کو تصاویر لیں، 14 مارچ کو امریکی صدر ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ اس اڈے پر امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

مزید پڑھیں:امریکا-ایران مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری: اعلیٰ سطح وفد کی ممکنہ قیادت جے ڈی وینس کریں گے

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیٹلائٹ نے اردن کے موافق السالتی ائیر بیس، بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے قریب مقامات، عراق کے اربیل ائیرپورٹ، کویت کے کیمپ بیوہرنگ اور علی السالم ائیر بیس، جبوتی میں کیمپ لیمونئیر اور عمان کے دقم ائیرپورٹ سمیت کئی دیگر تنصیبات کی نگرانی کی۔

خلیجی ممالک کے سویلین انفرا اسٹرکچر جیسے متحدہ عرب امارات کی خورفکن بندرگاہ، قیدفہ پاور اور ڈی سیلینیشن پلانٹ اور بحرین کی البا ایلومینیم فیکٹری کو بھی مانیٹر کیا گیا۔

برطانوی جریدے کے مطابق سیٹلائٹ کی ہائی ریزولوشن تقریباً نصف میٹر صلاحیت ایران کو اہداف کی درست شناخت اور حملوں کی مؤثر منصوبہ بندی میں مدد دیتی ہے۔

ایران کا پہلے کا سیٹلائٹ نور-3تقریباً 5 میٹر ریزولوشن تک محدود تھا جو اتنی تفصیل فراہم نہیں کر سکتا تھا، ایران نے اس سیٹلائٹ سسٹم کے کنٹرول کے لیے 36.6 ملین ڈالر ادا کیے، معاہدے میں سیٹلائٹ، لانچنگ، تکنیکی معاونت اور ڈیٹا انفرا اسٹرکچر کی تفصیلات شامل ہیں۔

چینی کمپنیوں Earth Eye Co اور Emposat نے سیٹلائٹ اور گراؤنڈ نیٹ ورک فراہم کیا جس سے عالمی سطح پر کنٹرول ممکن ہوا۔

چین نے ایران کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات پھیلانے کی مخالفت کرتی ہے اور ہمیشہ امن کے فروغ کے لیے کام کرتی ہے۔