کوئٹہ ، حکومتِ بلوچستان کی جانب سے 18 اپریل کو دی گئی ایک پریس بریفنگ میں ایک ایسے کیس کی تفصیلات سامنے آئیں جنہوں نے دہشت گردی کے بدلتے ہوئے طریقہ کار پر نئے سوالات اٹھا(raised questions) دیے ہیں۔
دالبندین سے تعلق رکھنے والی رحیمہ بی بی کے اعترافی بیان کے مطابق، ان کے شوہر منظور احمد مبینہ طور پر ایک ایسے نیٹ ورک کا حصہ تھے جو شدت پسند سرگرمیوں میں سہولت کاری فراہم کرتا تھا۔
رحیمہ بی بی نے بتایا کہ ایک خاتون، زرینہ رفیق، کچھ عرصہ ان کے گھر میں مقیم رہی، جو بعد ازاں نومبر 2025 میں فرنٹیئر کور کے کیمپ پر خودکش حملے میں ملوث پائی گئی۔
خاتون کو پہلے افغانستان منتقل کیا گیا جہاں اسے تربیت دی گئی، اور پھر اسے پاکستان واپس لا کر حملے کے لیے استعمال کیا گیا۔
اس کیس کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ گھریلو ماحول کو بطور پناہ گاہ استعمال کیا گیا۔ رحیمہ بی بی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض نیٹ ورکس عام گھروں اور خاندانی نظام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس سے سیکیورٹی اداروں کے لیے چیلنجز میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ ان کا ذاتی موبائل نمبر بھی مبینہ طور پر شدت پسند عناصر سے رابطے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا، جس سے شناخت چھپانے کی ایک منظم کوشش کا عندیہ ملتا ہے۔
سکیورٹی حکام کے مطابق، حالیہ برسوں میں خواتین کو نشانہ بنانے اور انہیں مختلف طریقوں سے شدت پسند سرگرمیوں میں شامل کرنے کا رجحان بڑھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور سماجی اور جذباتی حالات کا فائدہ اٹھا کر بھرتی کا عمل کیا جاتا ہے، جس کے بعد تربیت اور کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔
مزید برآں، بعض کیسز میں جب ایسے افراد کو گرفتار یا ناکارہ بنایا جاتا ہے تو انہیں “لاپتہ افراد” کے طور پر پیش کر کے ایک متبادل بیانیہ بنانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے، جس سے عوامی رائے متاثر ہو سکتی ہے۔
حکام نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سرگرمیاں نہ صرف قانون کے خلاف ہیں بلکہ مقامی ثقافتی اور اخلاقی اقدار سے بھی متصادم ہیں، جہاں خواتین کے احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
صوبائی حکومت اور سکیورٹی اداروں کے مطابق، ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جن میں انٹیلی جنس معلومات کا حصول، فرانزک تحقیقات اور قانونی اقدامات شامل ہیں، تاکہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔












اتوار 19 اپریل 2026 