چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی(Tahir Mahmood Ashrafi) کے ساتھ لندن میں ہراسانی کا واقعہ پیش آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
علامہ طاہر اشرفی نے اس واقعے کے حوالے سے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا کہ وہ لندن میں اہل خانہ کے ہمراہ ایک دعوت میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں بعض افراد نے انہیں روک لیا۔ مجھے اور میرے اہل خانہ کو ہراساں کیا گیا اور نازیبا زبان استعمال کی گئی۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ متعلقہ افراد نے فوج اور سپہ سالار کے حوالے سے سوالات کیے اور تلخ جملوں کا تبادلہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ واقعے میں پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ بعض افراد بھی موجود تھے۔
مزیدپڑھیں:25 کلو واٹ سے کم سولر سسٹمز پر فیس ، لائسنس شرط ختم کرنے کی تجویز
علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ سیاسی اختلاف کی بنیاد پر اہل خانہ کے سامنے ہنگامہ آرائی اور بدزبانی قابل قبول نہیں۔ اگر کسی کے اہل خانہ کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جائے تو اسے برداشت کرنا مشکل ہوگا۔ اختلاف رائے کو اخلاقیات اور برداشت کے دائرے میں رہ کر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
انہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اپنے ماضی کے تعلقات اور سفارتی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے مختلف ادوار میں پاکستان اور عالم اسلام کے تعلقات کی بہتری کے لیے کردار ادا کیا اور کسی ذاتی فائدے کے لیے کوئی عہدہ یا منصب حاصل نہیں کیا۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں، اپنے ساتھیوں اور عرب نوجوانوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے واقعے کے بعد ان سے اظہار یکجہتی کیا۔












اتوار 26 اپریل 2026 