5G انفراسٹرکچر، 15 لائسنس ہولڈرز، صرف 9 نے ملک میں ٹاورز نصب کیے، پی ٹی اے

Calender Icon جمعہ 8 مئی 2026

اسلام آباد، فائیو جی کی کامیابی کے لیے ٹیلی کام ٹاورز(telecom towers) کی تنصیب بڑا چیلنج ثابت ہونے لگا، پندرہ لائسنس ہولڈرز میں سے صرف چالیس فیصد نے ملک بھر میں ٹاورز لگائے۔

پی ٹی اے نے لائسنس ہولڈرز کے غیر فعال ہونے کا نوٹس لے لیا۔ ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز کی مرحلہ وار تنصیب کے اہداف مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اسٹیک ہولڈرز سے رائے بھی طلب کرلی گئی۔

پی ٹی اے کے مطابق فائیو جی کی کامیابی کے لیے اب تک پندرہ لائسنس ہولڈرز میں سے صرف نو نے پاکستان بھر میں ٹاورز نصب کیے ہیں۔ صرف چھ لائسنس ہولڈرز نے ملک میں پچاس یا اس سے زیادہ ٹاورز نصب کیے۔

پی ٹی اے نے ٹیلی کام ٹاور پرووائیڈرز کے لیے جامع رول آؤٹ ذمہ داریوں کے نفاذ کا فیصلہ کر لیا۔ لائسنس ہولڈرز کیلئے رول آؤٹ شرائط کی تجویز دی گئی ہے۔ پی ٹی اے نے لائسنس کے حصول کے بعد پہلے سال میں دس ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب لازمی قرار دی ہے۔

نئی شرط کے مطابق ٹی ٹی پی لائسنس یافتگان کو ہر سال دس نئے ٹیلی کام ٹاورز لگانے ہوں گے۔۔ لائسنس ہولڈر کیلئے پانچ سال میں مجموعی طور پر پچاس ٹیلی کام ٹاورز نصب کرنے کی شرط ہے۔

مزید پڑھیں:آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 1.2 ارب ڈالر اگلی قسط کی منظور ی دیدی

لائسنس ہولڈر پر رول آؤٹ اہداف کا اطلاق سرٹیفکیٹ کے اجرا کے بعد ہوگا۔ لائسنس ہولڈرز کیلئے رول آؤٹ اہداف پر مشاورت کا بھی آغاز ہو گیا۔

پی ٹی اے نے اسٹیک ہولڈرز کے تجاویز پیش کرنے کیلئے اٹھارہ مئی کی ڈیڈلائن مقرر کی ہے۔