ملک میں پیٹرولیم مصنوعات(Petroleum Products) کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے دباؤ کی بنیادی وجوہات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق حکومت اور متعلقہ شعبے عوام سے فی لیٹر بڑی مالیت میں مختلف ٹیکسز اور چارجز وصول کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں سب سے بڑا حصہ مختلف ٹیکسز اور لیویز کا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فی لیٹر پیٹرول کی مجموعی قیمت میں تقریباً 198 روپے کے لگ بھگ ٹیکسز شامل ہیں، جس کے بعد اس کی اصل لاگت نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول پر فی لیٹر 117 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی عائد کی گئی ہے، جبکہ 22 روپے سے زائد کسٹم ڈیوٹی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ 29 روپے فی لیٹر پریمیم، 8 روپے سے زائد آئل کمپنیوں کا منافع، 7 روپے سے زائد ڈسٹری بیوشن مارجن اور فریٹ چارجز بھی شامل کیے گئے ہیں۔ مزید برآں کلائمٹ سپورٹ لیوی اور ایکسچینج ریٹ ایڈجسٹمنٹ بھی فی لیٹر قیمت میں شامل ہیں۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی بھاری ٹیکسز شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈیزل پر فی لیٹر 113 روپے سے زائد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جس کی مجموعی ریٹیل قیمت تقریباً 300 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ جاتی ہے۔
مزیدپڑھیں:بجلی صارفین سے 3 سالوں میں 19 کھرب ٹیکس وصول کرنے کا انکشاف
ڈیزل پر بھی مختلف مدات میں چارجز عائد ہیں جن میں لیوی، کسٹم ڈیوٹی، سمندری نقصانات کی ڈیوٹی، فریٹ مارجن، ڈسٹری بیوشن مارجن اور کمپنیوں کا منافع شامل ہے۔ اس کے علاوہ فی بیرل پریمیم بھی قیمت میں شامل کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر پیٹرول کی قیمت کا بڑا حصہ حکومتی ٹیکسز اور ڈیوٹیز پر مشتمل ہے، جبکہ آئل مارکیٹنگ اور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں بھی صارفین سے اضافی چارجز وصول کر رہی ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسز کے باعث براہ راست اثر مہنگائی کی شرح پر پڑ رہا ہے، جس سے عوامی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔













منگل 12 مئی 2026 
