کیوبا میں ایندھن کابحران، ملک شدید بلیک آؤٹ کی لپیٹ میں

Calender Icon جمعرات 14 مئی 2026

 کیوبا (Cuba)کے وزیر توانائی ویسینٹ ڈی لا او نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں ڈیزل اور فیول آئل کے ذخائر مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں، جس کے باعث پورا ملک کئی دہائیوں کے بدترین بلیک آؤٹ کا سامنا کر رہا ہے۔

سرکاری میڈیا پر جاری ہنگامی بیان میں وزیر توانائی نے صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے پاس نہ صرف ایندھن ختم ہو چکا ہے بلکہ کوئی محفوظ ذخیرہ بھی باقی نہیں رہا، جس کی وجہ سے قومی پاور گرڈ شدید دباؤ کا شکار ہے۔

امریکی پابندیوں کو بحران کی بڑی وجہ قرار

ویسینٹ ڈی لا او نے کہا کہ امریکا کی اقتصادی پابندیوں اور ناکہ بندی کے باعث ایندھن کی شدید قلت پیدا ہوئی، جس نے توانائی کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں ملک کا پاور گرڈ صرف مقامی خام تیل، قدرتی گیس اور شمسی توانائی کے محدود ذرائع پر چل رہا ہے۔

ہوانا میں روزانہ 20 سے 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ

رپورٹس کے مطابق دارالحکومت ہوانا سمیت مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ کئی شہری علاقوں میں روزانہ 20 سے 22 گھنٹے تک بجلی غائب رہتی ہے، جس سے معمولات زندگی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عید سے قبل حکومت کا عوام کیلئے تحفہ،حکومت کا عوام ایکسپریس شروع کرنے کا اعلان،افتتاح24مئی کو ہوگا

مقامی شہریوں کے مطابق بجلی کی طویل بندش کے باعث خوراک محفوظ رکھنا، پانی کی فراہمی اور طبی سہولیات تک رسائی بھی مشکل ہو چکی ہے۔

خوراک اور ادویات کی قلت نے بحران بڑھا دیا

وزیر توانائی کے مطابق ملک پہلے ہی خوراک، ادویات اور ایندھن کی کمی جیسے مسائل سے دوچار تھا، جبکہ حالیہ بلیک آؤٹ نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل بجلی بند رہنے کے باعث صنعتی سرگرمیاں، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ کاروبار بھی متاثر ہو رہے ہیں، جس سے معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

شمسی توانائی کے منصوبے بھی متاثر

کیوبا نے گزشتہ دو برسوں کے دوران تقریباً 1300 میگاواٹ شمسی توانائی کے منصوبے شروع کیے تھے تاکہ بجلی کے بحران پر قابو پایا جا سکے، تاہم ایندھن کی کمی اور پاور گرڈ کے عدم استحکام نے ان منصوبوں کی کارکردگی کو بھی متاثر کیا ہے۔

ماہرین کی تشویش

توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایندھن کی فراہمی بحال نہ ہوئی تو کیوبا کو مزید طویل بلیک آؤٹس، معاشی سست روی اور عوامی بے چینی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق موجودہ بحران نے ایک بار پھر کیوبا کے توانائی نظام کی کمزوریوں اور درآمدی ایندھن پر انحصار کو نمایاں کر دیا ہے۔