فلوریڈا،جنسی جرائم میں ملوث جیفری ایپسٹین(jeffery apstin) کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہونے والی ازبکستان کی رہائشی روزا نے پہلی بار عوامی سطح پر خاموشی توڑ دی ہے۔
روزا نے بتایا کہ جب وہ ٹین ایجر تھیں، تو انہیں ایک ماڈلنگ ایجنٹ جینلُوک برونیل نے بھرتی کیا جس نے بعد ازاں 2009 میں انہیں ایپسٹین کے حوالے کر دیا۔
متاثرہ خاتون کے مطابق، ایپسٹین نے ان کے کمزور معاشی حالات کا فائدہ اٹھایا اور مالی مدد کے بہانے انہیں مسلسل تین برس تک ریپ کا نشانہ بنایا۔
مزید پڑھیں:سونا پھر اُڑان بھر گیا، ایک دن میں بڑا اضافہ، خریدار پریشان
اگرچہ اس سماعت کی کوئی براہِ راست قانونی حیثیت نہیں، تاہم اس کا مقصد اس ہائی پروفائل کیس کو زندہ رکھنا اور متاثرین کو انصاف کی امید دلانا ہے۔












جمعرات 14 مئی 2026 