28ویں آئینی ترمیم: فی الحال کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی، اعظم نذیر تارڑ

Calender Icon ہفتہ 16 مئی 2026

وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ (Azam Nazir Tarar) نے کہا ہے کہ اس وقت 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کوئی واضح پیش رفت یا عملی آثار نظر نہیں آ رہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کرے گی، اور جب ان کی جانب سے مثبت اشارے ملیں گے تو آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مخلوط حکومت میں آئینی ترمیم جیسے اہم معاملات مشاورت اور اتفاق رائے کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقین کو ایک ساتھ بیٹھ کر بات کرنا ہوگی، جیسا کہ ماضی میں بھی 2009 میں اتفاق رائے سے فیصلے کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں؛وزیر داخلہ محسن نقوی دو روزہ دورے پر ایران پہنچ گئے

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قومی ڈائیلاگ کا عمل جاری ہے اور آئندہ بھی مختلف امور پر مشاورت ہوتی رہے گی، تاہم کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے وسیع اتفاق رائے ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فی الوقت کوئی ڈرافٹ یا حتمی مسودہ سامنے نہیں آیا، جب بھی ترمیم کا خاکہ تیار ہوگا تو اس کے خدوخال واضح ہو جائیں گے۔

وفاقی وزیر کے مطابق ملک کو درپیش بعض آئینی اور انتظامی مسائل پر بھی بات چیت کی ضرورت ہے، جن میں این ایف سی ایوارڈ، آبادی کا بڑھتا ہوا دباؤ اور صوبائی مطالبات شامل ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے سمیت مختلف تجاویز زیر غور ہیں، اور حکومت کی کوشش ہے کہ تمام فیصلے باہمی مشاورت سے کیے جائیں۔