بیرسٹر گوہر علی خان (Barrister Gohar Ali Khan) نے ووٹر کی عمر کی حد 18 سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی تجویز کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی تجویز نہ تو عملی طور پر قابلِ عمل ہے اور نہ ہی اسے سنجیدہ پالیسی بحث کہا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق دنیا کے بیشتر ممالک میں ووٹ دینے کی قانونی عمر 18 سال مقرر ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے یوتھ سے متعلق معیار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 15 سے 25 سال کی عمر کے افراد کو نوجوان سمجھا جاتا ہے، اس لیے انہیں جمہوری عمل سے باہر رکھنا مناسب نہیں ہوگا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر ووٹنگ کی عمر بڑھائی گئی تو اس سے جمہوری عمل متاثر ہوگا اور نوجوانوں کی سیاسی شمولیت محدود ہو جائے گی، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے درست سمت نہیں۔
مزید پڑھیں؛پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا کی حکومت پر تنقید
انہوں نے یہ بھی کہا کہ رانا ثناء اللہ کی جانب سے اس حوالے سے دیے گئے ریمارکس پر بھی انہیں اتفاق نہیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں 18 سال کی عمر کو ووٹ کا بنیادی حق تسلیم کیا جاتا ہے، اور چند ممالک نے بھی بعد میں اصلاحات کے ذریعے یہی معیار اپنایا ہے۔
28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر پی ٹی آئی سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، اور ان کے مطابق اس وقت اسمبلی میں مزید آئینی ترامیم کا ماحول موجود نہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ وفاقی ڈھانچے یا این ایف سی ایوارڈ میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی صوبوں کے اختیارات کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے ایسی ترامیم وسیع اتفاقِ رائے کے بغیر نہیں ہونی چاہئیں۔












پیر 18 مئی 2026 