امریکی سینیٹ میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ایران پالیسی پر قرارداد منظور

Calender Icon بدھ 20 مئی 2026

امریکی سینیٹ(US Senate) میں ایران پالیسی سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کے خلاف ایک قرارداد منظور کر لی گئی ہے جس کے تحت ایران کے گرد مبینہ ناکہ بندی اور فوجی کارروائیوں پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سینیٹ میں قرارداد کی منظوری

غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی سینیٹ نے اس قرارداد کے حق میں 50 ووٹ جبکہ مخالفت میں 47 ووٹ دیے۔ اس اقدام کو ایران تنازع کے آغاز کے بعد پہلا بڑا پارلیمانی قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے آئندہ امریکی پالیسی پر اثر پڑ سکتا ہے۔

فوجی انخلا اور ناکہ بندی پر مؤقف

قرارداد میں ایران کے گرد قائم مبینہ ناکہ بندی ختم کرنے اور امریکی فوجی دستوں کو واپس بلانے کی حمایت کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی مزید فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی قرار دی جائے۔

جماعتی تقسیم اور اہم ووٹنگ

رپورٹ کے مطابق چار ریپبلکن سینیٹرز نے اپنی جماعت سے ہٹ کر ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جن میں سوسن کولنز، لیزا مرکووسکی، رینڈ پال اور بل کیسیڈی شامل ہیں۔ اس تقسیم نے ایوان میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

مزیدپڑھیں:عیدالاضحیٰ پر 26 سے 28 مئی تک تین روزہ سرکاری تعطیلات کا اعلان

حتمی مرحلہ اور ممکنہ چیلنجز

قرارداد اب سینیٹ میں مزید بحث اور حتمی ووٹنگ کے مرحلے میں داخل ہو گی، جہاں ریپبلکن قیادت کی جانب سے اسے روکنے کی کوشش متوقع ہے۔ اس کے باوجود ماہرین اسے امریکی خارجہ پالیسی میں ایک اہم سیاسی اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

سیاسی ردعمل اور اختلافات

ڈیموکریٹ سینیٹر جون فیٹرمین نے اپنی جماعت کے برخلاف اس قرارداد کی مخالفت کی، جبکہ ریپبلکن سینیٹر بل کیسیڈی کی حمایت نے بھی سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا ہے، خاص طور پر ان کی حالیہ پارٹی اندرونی سیاسی صورتحال کے تناظر میں۔