عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں کمی، امریکی ڈالر کی مضبوطی بڑی وجہ قرار

Calender Icon جمعہ 22 مئی 2026

عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں(Gold Rates) میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی بڑی وجہ امریکی ڈالر کی مضبوطی اور شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات قرار دی جا رہی ہیں۔

مالیاتی ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اس وقت امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسیوں اور عالمی معاشی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جس کے باعث قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ دباؤ کا شکار ہے۔

جمعہ کے روز اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد سونا 4,527.60 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔ اسی طرح امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 4,529.10 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔ ہفتہ وار بنیاد پر بھی سونے کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، جس نے سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر کی مضبوطی سونے کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہے کیونکہ اس سے دیگر کرنسی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے سونا مہنگا ہو جاتا ہے، نتیجتاً طلب میں کمی آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں بلند شرح سود بھی سونے پر دباؤ بڑھا رہی ہے، کیونکہ زیادہ شرح سود سرمایہ کاروں کو بانڈز اور دیگر منافع بخش اثاثوں کی جانب راغب کرتی ہے۔

مزیدپڑھیں:’’سنگل مدر ہونا آسان نہیں‘‘ ایشلے سینٹ کلیئر کے انکشافات نے نئی بحث چھیڑ دی

ادھر امریکی سیاست اور عالمی سفارتی صورتحال بھی مارکیٹ کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ امریکی سیاستدان Marco Rubio نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں کچھ مثبت پیش رفت کا عندیہ دیا ہے، تاہم یورینیم ذخائر اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول اب بھی اہم تنازعات میں شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال عالمی توانائی اور سونے کی مارکیٹ پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے باعث امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات مضبوط ہو رہی ہیں۔ مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق سال کے اختتام تک شرح سود میں اضافے کے امکانات تقریباً 60 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے کیون وورش کو فیڈ چیئرمین کا حلف دلائے جانے کے اعلان نے بھی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر لی ہے، کیونکہ اس پیش رفت کو مستقبل کی مالیاتی پالیسیوں سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔

دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔ چاندی کی قیمت میں 0.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، اگرچہ ہفتہ وار بنیاد پر اضافے کی توقع برقرار ہے۔ اسی طرح پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔