اسماعیلی برادری کے 50ویں امام کا پہلا دیدار، ہنزہ روشنیوں اور عقیدت سے جگمگا اٹھا

Calender Icon ہفتہ 23 مئی 2026

 گلگت بلتستان کے  ضلع ہنزہ(Hunza) میں اسماعیلی برادری کے 50ویں امام اور روحانی پیشوا شہزادہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم کے پہلے دیدار کی روح پرور تقریب منعقد ہوئی۔

تقریب میں شرکت کے لیےپاکستان سمیت دنیا بھر سے ہزاروں عقیدت مند ہنزہ پہنچے۔ فروری 2025 میں منصبِ امامت سنبھالنے کے بعد پرنس رحیم آغا خان کا یہ پہلا دورۂ پاکستان ہے، جسے اسماعیلی برادری کے لیے انتہائی تاریخی اور روحانی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

ہنزہ کے علاقے گوجال میں منعقد ہونے والی اس تقریب کو “جشنِ دیدار” کا نام دیا گیا، جہاں ہزاروں افراد نے اپنے روحانی پیشوا کے دیدار کی سعادت حاصل کی۔ اس موقع پر علاقے بھر میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ گوجال اور ہنزہ کے تقریباً تمام ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز اور نجی رہائش گاہیں ملک کے مختلف شہروں اور بیرونِ ملک سے آنے والے مہمانوں کے لیے وقف کر دی گئیں۔

پرنس رحیم الحسینی آغا خان پنجم کو یہ منصب ان کے والد اور اسماعیلی برادری کے 49ویں امام پرنس کریم آغا خان کی وصیت کے مطابق سونپا گیا تھا، جن کا انتقال گزشتہ سال ہوا تھا۔ اسماعیلی روایت میں “حاضر امام” کے دیدار کو انتہائی مقدس اور روحانی تجربہ سمجھا جاتا ہے، جس میں عقیدت مند اپنے امام سے براہِ راست ملاقات اور زیارت کرتے ہیں۔

اس تقریب کی ایک نمایاں خصوصیت گلگت بلتستان میں مختلف مسالک کے درمیان مثالی ہم آہنگی اور بھائی چارے کا مظاہرہ تھا۔ ہنزہ میں اہلِ تشیع برادری نے آنے والے مہمانوں کے لیے مفت ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا، جبکہ گلگت میں اہلسنت افراد نے سبیلیں لگا کر شرکا کی خدمت کی۔ علاقے بھر میں عمارتوں، بازاروں اور سڑکوں پر چراغاں کیا گیا اور ہر طرف جشن کا سماں دیکھنے میں آیا۔

ہنزہ میں اسماعیلی کمیونٹی کے منتظم رمیز علی کے مطابق تقریب کے انتظامات کے لیے تقریباً 3700 رجسٹرڈ رضاکار خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ صرف گوجال میں ہونے والی تقریب میں 70 ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ ان کے مطابق پرنس رحیم الحسینی کا دورہ ایک ہفتے تک جاری رہے گا، جس کے دوران چترال سمیت دیگر علاقوں میں بھی دیدار اور روحانی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ دورے کے دوران اجتماعی دیدار، دعائیہ اجتماعات، مقامی جماعتوں سے ملاقاتیں، مختلف تقریبات سے خطاب اور حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ بھی لیا جائے گا، جن میں تعلیم، صحت، ماحولیات، بجلی، انٹرنیٹ، دیہی ترقی اور روزگار کے منصوبے شامل ہیں۔

ہنزہ کی رہائشی نسیمہ، جو اپنے والدین کے ساتھ لاہور سے دیدار کے لیے آئی ہیں، کہتی ہیں کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے یادگار لمحہ ہے۔ ان کے مطابق وہ اپنے امامِ حاضر کے دیدار کے لیے دو روز قبل ہنزہ پہنچیں اور گوجال کی ایک مقامی فیملی نے انہیں اپنے گھر میں مہمان بنایا۔

نسیمہ کا کہنا تھا کہ ہم گوجال میں کسی کو نہیں جانتے تھے، مگر یہاں لوگوں نے جس محبت اور خلوص سے ہمارا استقبال کیا، وہ ناقابلِ بیان ہے۔ ہمارے میزبانوں نے کہا کہ امام کے دیدار کے لیے آنے والوں کی خدمت کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

ایک اور مقامی رہائشی ارسلان علی کے مطابق پورا ہنزہ اس وقت جشن میں ڈوبا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر طرف روشنیاں ہیں، لوگ رات بھر جاگ رہے ہیں، سڑکوں اور گلیوں میں خوشی کا سماں ہے۔ لوگ نئے کپڑے پہن کر اپنے امام سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایس ’ایسا منظر صرف امام کے دیدار ہی کے موقع پر ہوتا ہے اور یہ تو خاص موقع ہے کہ تخت نشینی کے بعد پہلی مرتبہ امام کا دیدار ہو گا، اس لیے ہماری عید ہی عید ہے۔‘منظر صرف دیدار کے موقع پر ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

مزیدپڑھیں:اے آئی نے معروف کورین اداکارکم سو ہیون کاکیرئرتباہ کردیا

شہزادہ رحیم الحسینی آغا خان پنجم 6 فروری 2025 کو اسماعیلی برادری کے 50ویں امام مقرر ہوئے تھے۔ وہ پرنس کریم آغا خان اور شہزادی سلیمہ کے بڑے صاحبزادے ہیں اور 12 اکتوبر 1971 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے امریکہ سے تعلیم حاصل کی اور آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے مختلف منصوبوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

وہ خاص طور پر ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی، غربت کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس وقت وہ آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی ماحولیات اور موسمیاتی کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔

دنیا بھر میں اسماعیلی مسلمانوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ کروڑ کے قریب ہے، جن میں پاکستان میں پانچ لاکھ سے زائد افراد شامل ہیں۔ اسماعیلی برادری کا عقیدہ ہے کہ ان کے امام کا سلسلہ نسب براہِ راست حضرت محمد ﷺ سے جا ملتا ہے اور ہر امام اپنی زندگی میں ہی اپنے جانشین کو نامزد کرتا ہے۔