ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ابھی مکمل معاہدے کی شکل میں نہیں آئے، تاہم جو بھی معاہدہ ہوگا وہ ان کے مطابق مضبوط اور سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور کے معاہدے سے مختلف ہوگا۔
امریکی ٹی وی چینل اے بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جس معاہدے پر بات ہو رہی ہے اس کی تفصیلات ابھی کسی کے سامنے نہیں، اور لوگ اس پر بے بنیاد قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بغیر معلومات کے تنقید کرنا درست نہیں۔
مزید پڑھیں؛ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی امید، عالمی منڈی میں تیل سستا
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان سے پہلے آنے والی قیادت کو یہ مسئلہ پہلے ہی حل کر لینا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے حوالے سے اگر کوئی پیش رفت ہوئی تو وہ مثبت ہوگی، کیونکہ وہ کمزور یا نامکمل معاہدہ قبول نہیں کرتے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکنہ ڈیل مکمل طور پر فریقین کی مرضی اور اتفاق پر منحصر ہے۔
اس سے قبل بھی ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایک حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے جنگی طیارے کے نیچے میزائل کی تصویر بھی شیئر کی تھی، جس پر ایک مخصوص پیغام درج تھا۔












پیر 25 مئی 2026 