اسلام آباد ہائیکورٹ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو (One Constitution Avenue) کے اپارٹمنٹ مالکان کی ممکنہ بے دخلی سے متعلق بڑا حکم جاری کرتے ہوئے تاحکمِ ثانی انہیں بے دخل کرنے سے روک دیا ہے۔
یہ فیصلہ جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سب لیز ہولڈرز کی انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت کے دوران سنایا۔
مقدمے میں سابق اعلیٰ شخصیات سمیت مختلف اپارٹمنٹ مالکان نے اپیلیں دائر کی تھیں، جن میں تھرڈ پارٹی رائٹس کے تحفظ سے متعلق سنگل بینچ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں؛آئی ایم ایف کے دو قرض پروگراموں سے بھی زیادہ رقم پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصول
سماعت کے دوران کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اپیلیں قابلِ سماعت نہیں ہیں، جبکہ اپارٹمنٹ مالکان کے وکلا نے کہا کہ رہائشیوں کو پہلے ہی سی ڈی اے کی جانب سے حقوق تسلیم کیے جا چکے ہیں اور بڑی حد تک ادائیگیاں بھی وصول کی گئی ہیں۔
عدالت نے دورانِ سماعت سوال اٹھایا کہ جب عمارت کو مکمل ہونے کا سرٹیفکیٹ ہی جاری نہیں ہوا تو رہائشی وہاں کیسے منتقل ہوئے، اور اس معاملے میں متعلقہ ادارے کی نگرانی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
دلائل سننے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے عبوری طور پر حکم دیا کہ موجودہ صورتحال میں اپارٹمنٹ مالکان کو کسی بھی قسم کی بے دخلی سے روکا جائے، اور کیس کی مزید سماعت آئندہ مرحلے تک ملتوی کر دی گئی۔












پیر 25 مئی 2026 