پاکستان اور چین کے درمیان سیکیورٹی پارٹنرشپ پر اتفاق

Calender Icon منگل 26 مئی 2026

Pakistan اور China نے باہمی تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرتے ہوئے ’چین پاکستان سیکیورٹی پارٹنرشپ‘ کے قیام پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں سامنے آئی۔

اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے دفاع، سلامتی اور انسداد دہشتگردی کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ China نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

دونوں ممالک نے سی پیک 2.0 کو تیزی سے آگے بڑھانے، گوادر کو علاقائی تجارتی و رابطہ مرکز بنانے اور خنجراب راہداری کو مزید فعال کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، خلائی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں پاکستانی خلا بازوں کی چین میں تربیت اور مستقبل میں کسی پاکستانی خلا باز کی چینی اسپیس اسٹیشن میں شمولیت کے امکانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ معدنیات، توانائی، صنعتی ترقی اور زرعی شعبے میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔

مزید پڑھیں؛سی پیک کی ترقی کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے، فیلڈ مارشل عاصم منیر

China نے 2025 سے 2029 تک پاکستان کے لیے 3 ہزار تربیتی مواقع فراہم کرنے کا اعلان کیا اور پاکستان کے اقتصادی اصلاحاتی پروگرام ’اڑان پاکستان‘ کی تعریف بھی کی۔

دونوں ممالک نے جنوبی ایشیا میں تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا، جبکہ چین نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی حمایت دوبارہ دہرائی۔ اس کے ساتھ عالمی سطح پر یکطرفہ پالیسیوں کی مخالفت اور کثیرالجہتی عالمی نظام کی حمایت پر بھی اتفاق کیا گیا۔

پاکستان نے ون چائنا پالیسی کی مکمل حمایت کرتے ہوئے تائیوان کو چین کا حصہ تسلیم کرنے کا مؤقف بھی دہرایا۔

ماہرین کے مطابق یہ اعلامیہ پاک چین تعلقات کو محض روایتی شراکت داری سے آگے بڑھا کر ایک جدید، ہمہ جہت اور ٹیکنالوجی پر مبنی اسٹریٹجک تعلقات کی شکل دیتا ہے۔