بجٹ میں بڑا جھٹکا، سولر پینلز اور الیکٹرک گاڑیاں مہنگی ہونے کا خدشہ

Calender Icon ہفتہ 30 مئی 2026

آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ (Budget)میں مختلف شعبوں پر ٹیکسوں میں اضافے کی تجاویز کے باعث سولر پینلز الیکٹرک گاڑیوں اور ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق بجٹ تیاری کے دوران متعدد ٹیکس اقدامات زیر غور ہیں، جن کا مقصد ریونیو بڑھانا بتایا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ پلان کے تحت الیکٹرک وہیکلز پر جنرل سیلز ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد تک کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

اسی طرح ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی ٹیکس 8 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی سفارش دی گئی ہے، جس سے ان گاڑیوں کی قیمتوں میں واضح اضافہ متوقع ہے۔

رپورٹس کے مطابق سولر پینلز پر بھی جی ایس ٹی 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جس کے نتیجے میں سولر انرجی سسٹمز کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عام صارفین کے لیے شمسی توانائی اپنانا مہنگا ہو جائے گا۔

مزیدپڑھیں:کینیڈا: آن لائن زہریلے مواد کی فروخت اور خودکشیوں میں معاونت، 60 سالہ شخص نے جرم قبول کر لیا

ماہرین کے مطابق اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو الیکٹرک کاروں، موٹر سائیکلوں، رکشوں، ٹرکوں، بسوں اور دیگر الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح الیکٹرک پک اپ، ٹریکٹر اور ڈبل کیبن گاڑیاں بھی مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب صنعتی حلقوں نے بجلی، گیس اور ٹیکسز میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت سے 327 ارب روپے کے ری فنڈز فوری جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کے مطابق اگر ان مطالبات پر عمل کیا جائے تو برآمد کنندگان کو تقریباً 100 ارب روپے تک ریلیف مل سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں پر ٹیکس بڑھنے سے نہ صرف صارفین متاثر ہوں گے بلکہ متبادل توانائی اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ کی رفتار بھی سست پڑ سکتی ہے۔