ایک لیٹر پیٹرول پر 142 روپے 41 پیسے لیوی اور مارجنز کی وصولی

Calender Icon اتوار 7 جون 2026

حکومت کی جانب سے حالیہ اعلان کے تحت پیٹرول(Petrol) کی قیمت میں کمی کی گئی ہے، تاہم سرکاری دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام پر پیٹرولیم لیوی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور مختلف مارجنز کا بھاری بوجھ بدستور برقرار ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ صارفین تک منتقل نہیں ہو سکا۔

دستاویزات کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 235 روپے 37 پیسے ہے، جبکہ صارفین کو یہی پیٹرول 377 روپے 78 پیسے فی لیٹر کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس طرح ایک لیٹر پیٹرول پر بنیادی قیمت اور فروختی قیمت کے درمیان 142 روپے 41 پیسے کا فرق موجود ہے، جو مختلف ٹیکسز، لیویز اور مارجنز کی مد میں وصول کیا جا رہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول پر سب سے زیادہ بوجھ پٹرولیم لیوی کی صورت میں ڈالا گیا ہے، جس کی شرح 116 روپے 08 پیسے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔ یہ رقم پیٹرول کی مجموعی قیمت کا بڑا حصہ بنتی ہے اور حکومت کے لیے آمدنی کا اہم ذریعہ تصور کی جاتی ہے۔

مزیدپڑھیں:سولر پینلز کی طرز پر ہوا سے پانی بنانے والی حیرت انگیز مشین

اس کے علاوہ صارفین سے کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں بھی 2 روپے 50 پیسے فی لیٹر وصول کیے جا رہے ہیں۔ ماحولیاتی اور موسمیاتی اقدامات کے لیے متعارف کرائی گئی اس لیوی نے بھی پیٹرول کی مجموعی قیمت میں اضافہ کیا ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت نے حالیہ قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے، تاہم پیٹرولیم لیوی اور دیگر چارجز کی بلند شرح کے باعث عوام کو خاطر خواہ ریلیف نہیں مل سکا۔ ان کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا اصل فائدہ اسی صورت صارفین تک پہنچ سکتا ہے جب ٹیکسوں اور لیویز کے بوجھ میں بھی کمی کی جائے۔

دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ محض چند روپے کی کمی سے ان کے ماہانہ اخراجات میں کوئی نمایاں فرق نہیں پڑتا، کیونکہ پیٹرول کی مجموعی قیمت میں شامل مختلف محصولات اور مارجنز ایندھن کو بدستور مہنگا بنائے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت نے حالیہ قیمتوں کے تعین میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے کمی کی تھی، تاہم دستاویزات کے مطابق لیویز اور مارجنز کا مجموعی حجم اب بھی 142 روپے 41 پیسے فی لیٹر کی سطح پر برقرار ہے۔