سپریم کورٹ(Supreme Court Of Pakistan) نے تیزاب گردی کے خلاف ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے فیصل آباد کی اقراء پروین پر تیزاب پھینکنے والے مجرم عبدالمنان کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے جبکہ کم عمری کی بنیاد پر سزا میں نرمی کی اپیل مسترد کر دی۔
جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بنچ نے 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ وحشیانہ اور پہلے سے منصوبہ بند جرائم میں کم عمری کو ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا اور تیزاب گردی قتل سے بھی زیادہ ہولناک جرم ہے کیونکہ قتل انسان کو ایک بار مارتا ہے جبکہ تیزاب کا شکار شخص پوری زندگی اذیت میں مبتلا رہتا ہے۔
سپریم کورٹ نے مجرم عبدالمنان کو متاثرہ خاتون اقراء پروین کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔
فیصلے میں ہائیکورٹس کو ہدایت کی گئی ہے کہ تیزاب گردی کے تمام مقدمات کا ٹرائل ہر صورت چار ماہ کے اندر مکمل کیا جائے اور متعلقہ ہائیکورٹس ان مقدمات کی خود نگرانی کریں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا پاسکو سے ایک ملین میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ
عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ عام شہریوں کو تیزاب کی کھلی فروخت پر فوری پابندی عائد کی جائے، تیزاب کی خرید و فروخت کیلئے بائیومیٹرک اور مرکزی ڈیجیٹل نگرانی کا نظام قائم کیا جائے اور خریدار کا شناختی کارڈ اور انگوٹھے کا نشان لازمی لیا جائے۔
عدالت نے مزید حکم دیا کہ تیزاب حملوں کے متاثرین کیلئے قومی بحالی فنڈ قائم کیا جائے، پلاسٹک سرجری اور نفسیاتی علاج کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے، مستقل متاثرین کو معذوری سرٹیفکیٹ، ماہانہ وظیفہ اور سرکاری ملازمتوں، تعلیمی اداروں اور فلاحی سکیموں میں خصوصی کوٹہ دیا جائے۔
سپریم کورٹ نے رجسٹرار کو فیصلے کی نقول تمام ہائیکورٹس، وفاقی و صوبائی محکمہ قانون، اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرلز کو بھجوانے کا حکم بھی دے دیا۔












منگل 9 جون 2026 