وزیراعظم شہباز شریف(Shehbaz Sharif) نے سوئٹزرلینڈ کا دورہ منسوخ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہونے کے بعد معاہدے کے نفاذ کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ جس کے باعث دورے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بنیادی مقصد امریکا اور ایران کے درمیان متفقہ خاکہ فراہم کرنا اور کشیدگی میں کمی کیلئے راہ ہموار کرنا تھا، جو حاصل کر لیا گیا ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکا اور ایران دستخط کر چکے ہیں جبکہ پاکستان نے بطور ثالث اس معاہدے میں اپنا کردار ادا کیا۔
ذرائع کے مطابق اب معاہدے پر عملدرآمد کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے اور اگلے مرحلے میں تکنیکی مذاکرات ہوں گے جن میں پابندیوں میں نرمی، بحری سلامتی، جوہری امور، تصدیقی طریقہ کار اور مرحلہ وار نفاذ پر بات چیت کی جائے گی۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے محض رسمی میزبانی نہیں کی بلکہ ایک جامع فریم ورک تشکیل دیا، جس پر اب ماہرین کی سطح پر مزید کام کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق معاہدہ فعال ہے اور پاکستان اس کے مؤثر نفاذ کیلئے بھی سرگرم کردار ادا کر رہا ہے جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کیلئے چار ورکنگ گروپس قائم کیے جائیں گے۔
مزیدپڑھیں:آبی جارحیت کا بھی مکمل بندوبست کیا جائے گا: خواجہ آصف
قبل ازیں ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے، امریکا ایران معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے ہیں،معاہدے پردستخط دونوں فریق تنازع کے سفارتی حل کےلیے پُرعزم ہیں،بطور ثالث میں نے بھی اس معاہدے کی توثیق کی ہے، پاکستان 19 جون 2026 کو سوئٹزر لینڈ میں تقریب کی میزبانی کرے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن،استحکام اورتنازعات کےحل کی جانب اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، صدرڈونلڈ ٹرمپ کودلی مبارکباد اورخراجِ تحسین پیش کرتا ہوں،امریکی مذاکراتی ٹیم کی لگن اور انتھک کوششوں کوبھی سراہتا ہوں۔












جمعہ 19 جون 2026 