لاہور،لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے 9 مئی(9th May Mughalpura Case )کے ایک اور کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا، عدالت نے تحریک انصاف کے متعدد مرکزی رہنماؤں کو قصوروار قرار دیتے ہوئے سخت سزائیں سنائی ہیں، وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سمیت کئی کارکنان کو مقدمے سے بری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور کے ایڈمن جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں سماعت کرتے ہوئے تھانہ مغلپورہ کے مقدمہ نمبر 1570/23 کا فیصلہ سنایا ہے، یہ 9 مئی کے واقعات سے متعلق اب تک کا 8واں مقدمہ ہے جس کا فیصلہ عدالت کی طرف سے جاری کیا گیا، عدالت نے استغاثہ کے دلائل اور شواہد کی بنیاد پر تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کو سخت سزا کا حکم دیا۔
بتایا گیا ہے کہ سزا پانے والوں میں ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری شامل ہیں، ان تمام رہنماؤں کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، ان رہنماؤں پر الزام تھا کہ انہوں نے 9 مئی کی بغاوت اور فسادات کی باقاعدہ سازش تیار کی تھی اور کارکنان کو جلاؤ گھیراؤ اور ریاستی اداروں کے خلاف اکسایا تھا، اس فیصلے میں جہاں مرکزی قیادت کو سزائیں ہوئیں، وہاں کئی شخصیات اور کارکنان کو ریلیف بھی ملا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ مرکزی قیادت کے علاوہ جلاؤ گھیراؤ میں ملوث پائے جانے والے 4 پی ٹی آئی کارکنان کو بھی عدالت نے مجرم قرار دیتے ہوئے قید کی سزا سنائی ہے، سزا پانے والے کارکنان میں شاہ دین، خاور حسین، احمد زاہد اور حافظ سید الرحمان شامل ہیں جنہیں 10، 10 سال قید کاٹنی ہوگی۔
عدالت نے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو اس مقدمے سے مکمل طور پر بری کرنے کا حکم جاری کیا، عدالت نے جرم ثابت نہ ہونے پر 11 کارکنان کو بھی بری کردیا۔
بتایا جارہا ہے کہ اس مقدمے میں پی ٹی آئی رہنماؤں سمیت مجموعی طور پر 22 ملزمان نامزد تھے، مقدمے کے 2 ملزمان سزا کے خوف سے عدالت سے اشتہاری ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں:مریم نفیس کا عمران خان کی خدمات کو خراجِ تحسین
جس کے باعث عدالت نے باقی 20 ملزمان کا فیصلہ سنایا، پراسکیوشن نے ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے عدالت میں 37 گواہان پیش کیے اور انہیں سخت سے سخت سزا دینے کی استدعا کی تھی، جسے عدالت نے منظور کرلیا۔












ہفتہ 20 جون 2026 