فیس بک(facebook) اور انسٹاگرام (instagram)کی مالک کمپنی میٹا کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بچوں کو عادی بنانے کے مقدمے میں قانونی دھچکا لگا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی وفاقی عدالت نے میٹا کی مقدمہ خارج کرنے کی استدعا کو مسترد کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی 29 ریاستوں کے اٹارنی جنرلز نے میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کمپنی نے جان بوجھ کر فیس بک اور انسٹاگرام کو اس انداز میں ڈیزائن کیا تاکہ بچوں اور نوعمر صارفین کو زیادہ سے زیادہ وقت تک پلیٹ فارمز سے وابستہ رکھا جا سکے، جبکہ اس سے متعلق ممکنہ خطرات کو بھی مبینہ طور پر چھپایا گیا۔
کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ میں امریکی ڈسٹرکٹ جج ایوون گونزالیز راجرز نے پیر، 29 جون کو میٹا کی مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
مزیدپڑھیں:کریتی سینن اور کبیر باہیا کا بریک اپ ہوا یا نہیں؟
مقدمے میں کمپنی پر صارفین کو گمراہ کرنے، غیر منصفانہ کاروباری طرزِ عمل اختیار کرنے اور چلڈرنز آن لائن پرائیویسی پروٹیکشن ایکٹ (COPPA) کی خلاف ورزی کے الزامات بھی شامل ہیں۔
عدالت نے اپنے 38 صفحات پر مشتمل فیصلے میں یہ بھی قرار دیا کہ شکایت کنندگان کے مطابق میٹا نے والدین کو مناسب انداز میں آگاہ نہیں کیا اور نہ ہی بچوں کے ڈیٹا اور پلیٹ فارم کے استعمال کے حوالے سے ضروری اجازت حاصل کی۔
دوسری جانب میٹا نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عدالت میں شواہد کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرے گی۔












جمعرات 2 جولائی 2026 