دریائے چناب پربھارتی منصوبے پاکستان کے وجود کیلئے چیلنج بن سکتے ہیں: چیئرمین واپڈا

Calender Icon پیر 6 جولائی 2026

اسلام آباد: واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کو معطل کرنے کا یکطرفہ فیصلہ پاکستان کی طویل المدتی آبی سلامتی، خوراک، توانائی اور ملکی معیشت کے لیے ایک سنگین تزویراتی چیلنج بن چکا ہے۔

ایک مقامی انگریزی اخبار میں شائع اپنے مضمون میں واپڈا چیئرمین نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ گزشتہ 65 برس سے دنیا کے کامیاب ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے، جس نے پاکستان کو دریاؤں کے پانی کی یقینی فراہمی اور آبی وسائل کی منصوبہ بندی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی۔

انہوں نے کہا کہ اسی معاہدے کی بدولت پاکستان نے دنیا کا سب سے بڑا مربوط آبپاشی نظام **انڈس بیسن ایریگیشن سسٹم (IBIS)** قائم کیا، جس کے تحت بڑے آبی ذخائر، بیراج، لنک نہریں اور نہری نظام تقریباً ساڑھے تین کروڑ ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، جبکہ ملک کی 90 فیصد سے زائد غذائی پیداوار بھی اسی نظام پر انحصار کرتی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید کے مطابق مئی 2025 میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اعلان بین الاقوامی قانون اور معاہدے کی روح کے منافی اقدام ہے، جس سے خطے میں آبی تعاون اور تزویراتی استحکام کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے نہ صرف مغربی دریاؤں پر نئے منصوبوں پر کام تیز کر دیا ہے بلکہ دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی فراہمی بھی بند کر دی ہے، جس کے باعث پاکستان کو سیلاب کی پیشگی اطلاع، آبی منصوبہ بندی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

واپڈا چیئرمین نے خبردار کیا کہ دریائے چناب پاکستان کے لیے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل دریا ہے، کیونکہ اس کے پانی سے تقریباً ایک کروڑ ایکڑ زرعی اراضی سیراب ہوتی ہے اور ملک کی اہم زرعی پیداوار کا انحصار بھی اسی پر ہے۔ ان کے بقول اگر دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ کی مقدار یا وقت میں مسلسل تبدیلی آتی ہے تو اس کے اثرات پورے انڈس بیسن ایریگیشن سسٹم، زرعی پیداوار، توانائی، ماحولیات اور قومی معیشت پر مرتب ہوں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا اصل خدشہ کسی ایک ڈیم یا منصوبے سے نہیں بلکہ بھارت کی جانب سے بالائی علاقوں میں متعدد منصوبوں کے ذریعے دریاؤں کے پانی کے بہاؤ کو اپنی مرضی سے کنٹرول کرنے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت ہے، جو پاکستان جیسے زیریں کنارے (Lower Riparian) ملک کے لیے ایک وجودی چیلنج بن سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:سرمایہ کاری کے وسیع مواقع، حکومت ہر ممکن سہولیات دینے کیلئے پرعزم،محمداورنگزیب

واپڈا چیئرمین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مشترکہ آبی وسائل کے منصفانہ اور شفاف انتظام کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ خطے میں آبی تنازعات سے بچا جا سکے اور پاکستان کی آبی سلامتی کو لاحق خطرات کا مؤثر تدارک ممکن بنایا جا سکے۔