‘ایران کا نمبر ون ٹارگٹ ہوں، شاید میں زندہ نہ رہوں’؛ ٹرمپ کو اپنی جان خطرے میں لگنے لگی

Calender Icon جمعرات 9 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایران کی مبینہ ”کل لسٹ“ یعنی ہدف بنانے والی فہرست میں سب سے پہلے نمبر پر ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بیان ترکیہ میں ہونے والی نیٹو سربراہی کانفرنس کے دوران ایک پریس گفتگو میں دیا، جہاں انہوں نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کا دفاع بھی کیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے موجودہ اور سابق رہنماؤں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران کا رویہ تبدیل نہ ہوا تو اس کے حکمرانوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے رہنما ختم ہو گئے ہیں، پھر ان کے پاس دوسرے رہنما آئے، وہ بھی ختم ہو گئے۔ اب ان کے پاس نئے رہنما ہیں، وہ بھی شاید ختم ہو جائیں، کون جانتا ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ اور آپ جانتے ہیں کیا؟ شاید میں بھی نہ رہوں۔ کیونکہ میں ان کا سب سے پہلا ہدف ہوں، یہ بات ہر جگہ موجود ہے کہ میں ان کا سب سے بڑا ہدف ہوں۔

تاہم ٹرمپ نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت یا تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ ایران کی جانب سے واقعی ایسی کوئی فہرست موجود ہے۔

مزیدپڑھیں:پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات 56 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جنید انوار چوہدری

ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں ان کا نمبر ون ہدف ہوں کیونکہ وہ بہت برے لوگ ہیں۔ وہ 47 سال سے اسی طرح کام کر رہے ہیں، لیکن میں وہی کر رہا ہوں جو ملک کے لیے درست ہے، اور جو دنیا کے لیے بہتر ہے۔

ٹرمپ نے ایران کی جانب سے مبینہ قتل کی منصوبہ بندی کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے یہ بات اس وقت کی جب صحافیوں نے ان سے سوال کیا کہ نیٹو اجلاس سے واپسی کے لیے انہوں نے قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے نئے صدارتی طیارے کے بجائے پرانے ایئر فورس ون کا استعمال کیوں کیا۔

ٹرمپ نے بتایا کہ نیا طیارہ برطانیہ کے ملڈن ہال ایئربیس بھیجا گیا تاکہ امریکی فوجی اہلکار اسے دیکھ سکیں۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ فوجیوں کو اس طیارے کا معائنہ کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ہر کوئی اس طیارے کو دیکھنے کے لیے بہت پرجوش ہے، ہم نے سوچا کہ سب سے پہلے انہیں ہی موقع ملنا چاہیے۔ پرانی یادوں کے لیے ہم ترکیہ سے سابق ایئر فورس ون کے ذریعے روانہ ہوں گے۔“

تاہم نئے طیارے کے بجائے پرانے جہاز کے استعمال پر قیاس آرائیاں شروع ہوئیں کہ شاید نئے طیارے میں مکمل سیکیورٹی صلاحیتیں موجود نہیں تھیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا نے ایران کے خلاف کارروائیاں کی تھیں۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی خفیہ سروس کی درخواست پر سیکیورٹی احتیاط کے طور پر پرانا طیارہ استعمال کیا گیا۔

اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نئے طیارے میں پرانے ایئر فورس ون جیسی کچھ سہولیات موجود نہیں ہیں، تاہم یہ فیصلہ کسی مخصوص خطرے کی بنیاد پر نہیں کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق صحافیوں کو بھی پرواز کے دوران طیارے کی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت دی گئی، تاہم اس کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

قطر کے شاہی خاندان نے گزشتہ سال یہ بوئنگ 747-8 طیارہ ٹرمپ کو تحفے میں دیا تھا۔ ٹرمپ اس سے قبل امریکی صدارتی طیاروں کی حالت پر تنقید کر چکے تھے، کیونکہ موجودہ ایئر فورس ون طیارے 1990 کی دہائی سے استعمال ہو رہے ہیں۔

نئے طیارے کو امریکی صدارتی استعمال کے لیے جدید سیکیورٹی نظام سے آراستہ کیا گیا اور یکم جولائی کو پہلی بار ٹرمپ کے ساتھ بیرون ملک سفر پر روانہ ہوا۔ اس طیارے کا رنگ بھی تبدیل کیا گیا ہے، جس میں سرخ، سفید اور نیوی بلیو رنگ شامل کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب قطر کی جانب سے سینکڑوں ملین ڈالر مالیت کے طیارے کا تحفہ دینے پر امریکا میں بعض حلقوں نے اخلاقی، آئینی اور سیکیورٹی خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے سرکاری ایئر فورس ون طیاروں کی فراہمی میں تاخیر کے باعث موجودہ طیارے ہی استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ نئے طیارے رواں دہائی کے آخر تک فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔