خود مختار آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹمز کو جوابدہ اور محفوظ بنانے کےلیے فوکس گروپ کے قیام کا اعلان

Calender Icon جمعہ 10 جولائی 2026

جنیوا میں منعقدہ ‘اے آئی فار گڈ گلوبل سمٹ’ کے دوران اقوامِ متحدہ کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی ایجنسی، انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ITU) نے خود مختار آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹمز کو جوابدہ اور محفوظ بنانے کے لیے ایک نئے بین الاقوامی فوکس گروپ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب اے آئی ایجنٹس تیزی سے وہ حساس کام اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں جو اب تک صرف انسانوں سے ہی منسوب تھے۔

یہ نئے اے آئی ایجنٹس ماضی کے روایتی جنریٹو اے آئی ٹولز سے بالکل مختلف ہیں، کیونکہ یہ کسی صارف کے دیے گئے حکم پر محض جواب دینے کے بجائے اس کی طرف سے مکمل طور پر خود مختار ہو کر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کاموں میں روزمرہ کی شیڈولنگ اور خریداریاں کرنے سے لے کر کمپنیوں کے پیچیدہ کاروباری معاملات کو سنبھالنا تک شامل ہے۔

مزیدپڑھیں:فیل لائیک درجہ حرارت کیا ہے؟ کیا ہر فرد کے لئے یہ الگ ہوتا ہے؟

ٹیکنالوجی کی یہی خود مختاری عالمی ادارے کے لیے سب سے بڑی تشویش کا باعث بن چکی ہے، کیونکہ انسان کی براہِ راست موجودگی کے بغیر کام کرنے والے یہ سسٹمز کسی دوسرے شخص یا تنظیم کا روپ دھار سکتے ہیں اور مالیاتی لین دین یا اہم ترین انفراسٹرکچر جیسے حساس شعبوں میں غیر مجاز یا غلط فیصلے بھی کر سکتے ہیں۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے قائم کیا جانے والا یہ نیا فوکس گروپ دنیا بھر سے تکنیکی، قانونی اور پالیسی ساز ماہرین کو ایک میز پر اکٹھا کرے گا۔ اس گروپ کا بنیادی مقصد ایسے بین الاقوامی طریقہ کار وضع کرنا ہے جن کے ذریعے ان خود مختار سسٹمز کی شناخت برقرار رکھی جا سکے، ان کے کام کرنے کے انداز کو قابلِ بھروسہ بنایا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آخری کنٹرول ہمیشہ انسان کے ہاتھ میں رہے۔

گروپ کی شریک چیئر ڈیبورا کمپرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ چونکہ یہ ایجنٹس بہت جلد انسانوں کی نیابت کرتے ہوئے کاروباری مذاکرات، مالی لین دین اور بڑے فیصلے کرنے جا رہے ہیں، اس لیے ایک مشترکہ بین الاقوامی فہم کا ہونا لازمی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ ایجنٹس کون ہیں اور ان پر کس حد تک بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔