وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف(Shehbaz Sharif) کی زیرِ صدارت جمعرات کو خطے میں جاری کشیدگی کے ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات اور حکومتی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سادگی اور کفایت شعاری کے اقدامات پر بھی تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی، اجلاس میں وفاقی وزراء، گورنراسٹیٹ بینک، اعلیٰ سرکاری حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کی صورتحال میں اب بھی غیر یقینی برقرار ہے، اس لیے حکومت کو ہرممکنہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھنی چاہیے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ اگرحالات کا تقاضا ہو تو بروقت فیصلوں کے لئے جامع اور قابلِ عمل لائحہ عمل تیار رکھا جائے تاکہ ملکی معیشت پر کسی بھی منفی اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
اسلام آباد: 16 جولائی 2026.
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت خطے میں کشیدگی کے ملکی معیشت پر اثرات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں سادگی و کفایت شعاری کے اقدامات پر رپورٹ پیش کی گئی. وزیرِ اعظم نے اجلاس میں ہدایت کی کہ خطے کی صورتحال میں غیر یقینی برقرار ہے، ہر ممکنہ… pic.twitter.com/GTdp6LMW0X
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) July 16, 2026
وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کی معیشت اس وقت مستحکم ہے، تاہم خطے میں کشیدگی میں اضافے کے باعث مستقبل میں معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ موجود ہے، جس کے پیش نظر تمام متعلقہ ادارے ہمہ وقت متحرک رہیں۔
اجلاس میں وزیراعظم نے گزشتہ سادگی اور کفایت شعاری مہم میں عوام کے بھرپور تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ قوم نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جس پر حکومت ان کی تہہ دل سے مشکور ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جس جذبے سے عوام نے پہلے حکومت کا ساتھ دیا، اسی انداز میں کفایت شعاری کو قومی سطح پر مزید فروغ دینا ہوگا تاکہ وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات اور توانائی کی بچت کے لیے چلائی گئی قومی مہم میں عوام کے تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ بروقت اور مؤثر حکومتی حکمت عملی کے باعث ملک میں ایندھن کی فراہمی کی صورتحال کو بہترین انداز میں سنبھالا گیا۔
مزیدپڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے این سی ایم سی کے اہم فیصلے
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے عام آدمی، موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کے مفادات کا تحفظ کیا جبکہ دی جانے والی سبسڈی کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو مؤثر انداز میں محدود رکھا گیا۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور مستقبل کے لیے ان کی مسلسل فراہمی کو بھی یقینی بنا لیا گیا ہے۔
حکام نے حکومت کو یقین دلایا کہ سپلائی چین کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، اویس خان لغاری، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق باجوہ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگراعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔












جمعرات 16 جولائی 2026 


