ہاؤسنگ اسکیم، 27 ہزار سے زائد قرض درخواستیں منظور

Calender Icon جمعرات 23 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک آف پاکستان(State Bank Of Pakistan) نے کہا ہے کہ ملک کے وہ تمام شہری جن کے نام پر کوئی مکان موجود نہیں، وہ وزیراعظم کی سبسڈی یافتہ ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے لیے اہل ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک میں موجود ایک کروڑ (10 ملین) سے زائد گھروں کی کمی کو کم کرنا اور عوام کو اپنی چھت فراہم کرنا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسلامک فنانس گروپ، غلام محمد عباسی (Ghulam Muhammad Abbasi) نے “وزیراعظم اپنا گھر پروگرام – گھر ہو تو اپنا” کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کمرشل بینکوں اور مائیکروفنانس بینکوں کو اسکیم کے حوالے سے ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بینک وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم کے تحت 65 سال تک عمر رکھنے والے افراد سے ہاؤسنگ فنانس کی درخواستیں وصول کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکیم میں کسی بھی پیشے کو نااہل قرار نہیں دیا گیا، بلکہ صحافی، وکلا، ججز، پالیسی ساز، فوجی اہلکار اور دیگر تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے گھر کے حصول کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

غلام محمد عباسی نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی (Overseas Pakistanis) بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے اہل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرض کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ چار افراد مشترکہ طور پر درخواست دے سکتے ہیں تاکہ قرض کی واپسی کی شرائط پوری کی جا سکیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی کشیدگی کے باعث سونا دو ہفتوں کی بلند سطح کے قریب برقرار

انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ عمر رکھنے والے افراد اپنے بچوں یا خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ شراکت داری میں درخواست دے سکتے ہیں، تاہم ضروری ہے کہ شریک درخواست گزار ملازمت پیشہ ہوں یا ان کی آمدنی کا کوئی ذریعہ موجود ہو۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے واضح کیا کہ تنخواہ کی سلپ رکھنے والے اور بغیر سلپ کے افراد دونوں اس اسکیم کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، جبکہ ماہانہ آمدنی کی کوئی مخصوص حد مقرر نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ کم آمدنی والے طبقے سمیت ہر شہری کو اپنا گھر فراہم کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ قرض کی ماہانہ قسط درخواست گزار کی آمدنی کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہو گی، کیونکہ بہت سے افراد کی رسمی تنخواہ کے علاوہ دیگر ذرائع آمدن بھی موجود ہوتے ہیں۔

غلام محمد عباسی کے مطابق مالی سال 2026-27 کے دوران مجموعی طور پر ایک لاکھ 50 ہزار (150,000) ہاؤسنگ قرضے جاری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ حکومت نے رواں مالی سال میں ان قرضوں پر سبسڈی کے لیے 71 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر قرض 20 سال کی زیادہ سے زیادہ مدت کے لیے لیا جائے تو پہلے 10 سال رعایتی شرائط کے تحت ہوں گے، جبکہ آخری 10 سال میں بینک مارکیٹ کی بنیاد پر منافع وصول کریں گے۔ ان کے مطابق اس اسکیم کے تحت قرض کی درخواست جمع کرانے پر بینک کوئی پراسیسنگ فیس وصول نہیں کریں گے۔

اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق مارچ 2025 سے اب تک بینکوں کو مجموعی طور پر ایک لاکھ 7 ہزار (107,000) درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے تقریباً 80 فیصد درخواستیں ستمبر 2025 کے بعد جمع کرائی گئیں، جب اسکیم میں ترامیم کرتے ہوئے قرض کی زیادہ سے زیادہ حد ایک کروڑ روپے مقرر کی گئی اور ابتدائی 10 سال کے لیے شرح منافع 5 فیصد رکھی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ موصول ہونے والی درخواستوں میں سے 27 ہزار سے زائد درخواست گزاروں کے قرض منظور کیے جا چکے ہیں، جبکہ 13 ہزار درخواستیں مسترد کی گئی ہیں۔ 30 جون 2026 تک بینک 6 ہزار سے زائد ہاؤسنگ قرضے جاری کر چکے ہیں، جن کا اوسط حجم 48 لاکھ روپے (4.8 ملین روپے) ہے، جبکہ مجموعی طور پر 26 ارب روپے کے قرضے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

غلام محمد عباسی نے مزید بتایا کہ 30 جون 2026 تک بینکوں کے ذمے ہاؤسنگ فنانس کے 293 ارب روپے کے قرضے واجب الادا تھے، جو 65 ہزار 414 قرض لینے والوں کو دیے گئے۔ اس حساب سے فی قرض اوسط حجم تقریباً 45 لاکھ روپے (4.5 ملین روپے) بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت 70 سے 80 فیصد ہاؤسنگ فنانس درخواستیں آن لائن جمع کرائی جا رہی ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے مخصوص آن لائن پورٹل متعارف کرائے جانے کے بعد آن لائن درخواستوں کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے بینکوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ہاؤسنگ فنانس پورٹ فولیو میں ہونے والے قرض نقصانات کے ابتدائی 10 فیصد کو حکومت برداشت کرے گی۔ ان کے مطابق اس وقت پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کے نان پرفارمنگ لونز (Non-Performing Loans) کی شرح 5.6 فیصد ہے۔