ثالثی کا کوئی مسئلہ نہیں، پیغامات کا سلسلہ جاری ہے: ایرانی وزیر خارجہ

Calender Icon ہفتہ 25 جولائی 2026

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی(Abbas Araghchi) نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم ایران کسی بھی قسم کے ناجائز مطالبات یا دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کے مطالبات پورے ہونے تک عارضی جنگ بندی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، ثالثی کا کوئی مسئلہ نہیں، لیکن ایران اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران امریکا کے ناجائز مطالبات کے آگے کبھی نہیں جھکے گا۔ جب تک آبنائے ہرمز سے متعلق ہمارے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، ہم عارضی جنگ بندی کو مسترد کرتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:سپریم کورٹ نے نیب اپیلوں سے متعلق آئینی تنازع نمٹا دیا

ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا دھمکی آمیز اور دباؤ پر مبنی رویہ قابل قبول نہیں۔ ایران طاقت، دباؤ اور دھمکی کی زبان قبول نہیں کرے گا۔

عباس عراقچی کا مزید کہنا تھا کہ ایران اپنے مؤقف سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا اور آبنائے ہرمز میں اپنے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور خطے کی اہم آبی گزرگاہ سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔