ایک اور اے آئی کمپنی کے ماڈل نے 3 دیگر اداروں کو ہیک کرلیا

Calender Icon منگل 4 اگست 2026

گزشتہ دنوں چیٹ جی پی ٹی تیار کرنے والی کمپنی اوپن اے آئی نے بتایا تھا کہ اندرونی ٹیسٹنگ کے دوران ٹیسٹنگ کے دوران آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی پر مبنی ایک ایجنٹ نے پروگرامرز کے معروف پلیٹ فارم ہگنگ فیس کے علاوہ دیگر 4 کمپنیوں کے آن لائن سسٹمز کو ہیک کیا تھا۔

اب ایک اور معروف اے آئی کمپنی انتھروپک نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے اے آئی ماڈل کلاڈ نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔کمپنی نے بتایا کہ اس کے اے آئی ماڈلز نے ایک اندرونی سکیورٹی تجربے کے دوران خود اپنے طور پر 3 کمپنیوں کے سسٹمز کو ہیک کیا۔

ان ماڈلز کو ایک کنٹرول ماحول میں ٹیسٹ کیا جا رہا تھا مگر انہوں نے ایک کمزوری کو تلاش کرکے خود کو انٹرنیٹ سے منسلک کرلیا۔اوپن اے آئی کے اعتراف کے بعد انتھروپک نے جانچ پڑتال کی تھی کہ کیا اس کے ماڈلز نے بھی تو اپنے طور پر کمپنیوں کے سسٹمز ہیک نہیں کیے۔

کمپنی کے مطابق ہم نے ایسے 3 کیسز دریافت کیے جن کے بارے میں متاثرہ کمپنیوں کو آگاہ کیا گیا ہے۔انتھروپک نے متاثرہ کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے مگر دیگر اے آئی اداروں پر زور دیا کہ وہ بھی اپنے سسٹمز کا جائزہ لیں تاکہ ان ماڈلز سے جڑے خطرات کا زیادہ بہتر اندازہ ہوسکے۔

انتھروپک نے بتایا کہ اس کی جانب سے ایک لاکھ 40 پزار سے زائد ٹیسٹوں کا تجزیہ کیا گیا اور ایسے شواہد ملے کلاڈ انٹرنیٹ سے جڑ گیا حالانکہ اسے الگ تھلگ ماحول میں انٹرنیٹ سے دور رکھا گیا تھا۔

اس سکیورٹی ٹیسٹ کے دوران کلاڈ کو ٹاسک دیا گیا تھا کہ وہ دوسری مشین میں چھپائی گئی خفیہ تفصیلات کو حاصل کرے، جس کے لیے اسے مشین کے سسٹم میں داخل ہونا تھا۔

اس ٹیسٹ کا مقصد ماڈل کی ہیکنگ صلاحیت کو جانچنا تھا، مگر کلاڈ نے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرکے 3 کمپنیوں کے سسٹمز کو ہیک کرلیا۔انتھروپک کے مطابق ایسا سب سے پہلے اپریل 2026 میں ہوا اور اس موقع پر اے آئی کمپنی یا متاثرہ کمپنیوں میں سے کسی کو بھی اس کا علم نہیں ہوسکا۔

انتھروپک نے بتایا کہ اب وہ تمام ریکارڈز کا باریک بینی سے جائزہ لے گی اور توقع ہے کہ مزید سرمایہ کاری اور سخت اقدامات کے ذریعے ایسے خطرات کی روک تھام کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

اس سے قبل جولائی کے دوسرے عشرے کے آغاز پر اوپن اے آئی نے بتایا تھا کہ اس کے 2 سب سے ایڈوانس اے آئی ماڈلز نے ایک اور کمپنی ہگنگ فیس کو خود اپنے بل پر ہیک کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

اس موقع پر اوپن اے آئی کا کہنا تھا کہ حال ہی میں متعارف کرائے گئے جی پی ٹی 5.6 سول اور ایک اور ایڈوانس ماڈل جس کو ابھی جاری بھی نہیں کیا گیا، پر مبنی ایک خودکار اے آئی ایجنٹ ٹیسٹنگ کے دوران کنٹرول ماحول سے باہر اوپن انٹرنیٹ تک پہنچا۔

بعد ازاں جولائی کے اختتام پر اوپن اے آئی نے ایک بیان میں بتایا کہ ٹیسٹنگ کے دوران اے آئی ایجنٹ اپنے محدود ماحول سے نکل کر انٹرنیٹ سے جڑ گیا اور مختلف ویب سروسز تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ اس حوالے سے تحقیقات کرنے پر اے آئی ایجنٹ نے انٹرنیٹ پر کچھ کمپنیوں کی لاگ ان تفصیلات حاصل کرکے چند اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی۔

مزید پڑھیں:بوائے فرینڈ سے جھگڑکر 18 ویں منزل سے کودنےوالی خاتون معجزاتی طور پر زندہ

اوپن اے آئی کی جانب سے متاثرہ کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، مگر اس انکشاف کے بعد سکیورٹی ٹیسٹنگ عارضی طور پر روک دی گئی ہے جبکہ اے آئی سسٹمز کے حفاظتی نظام مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔