ایران کے ساتھ بات چیت آسان نہیں کیونکہ وہاں کا نظام مختلف دھڑوں میں تقسیم ہے، جے ڈی وینس کا فاکس نیوز کو انٹرویو۔ امریکا ایران کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے فوجی، معاشی اور سفارتی تمام ذرائع استعمال کرے گا۔
ایران سے تکنیکی مذاکرات جاری، کامیاب ہوں یا ناکام ، ہماری پوزیشن مضبوط ہے: امریکی نائب صدر۔ ایرانی نظام میں ایک طبقہ ایسا ہے جو جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے جبکہ دوسرا گروہ ایسا بھی موجود ہے جو جنگ جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔امریکا کی ذمہ داری ہے کہ ان حالات میں درست حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اپنے مفادات کے مطابق بہترین نتیجہ حاصل کرے۔
امریکی نائب صدر نے امید ظاہر کی کہ بالآخر تنازع کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ عمل آسان نہیں ہوگا اور اس میں وقت لگ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور یہ کمی برقرار بھی رہ سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ امریکا ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
دوسری جانب ایک تقریب سے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ لوگوں کو مارنا نہیں چاہتے، ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے، دیکھیں کیا ہوتا ہے، ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔
مزید پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف سعودیہ پہنچ گئے، آج ولی عہد سے اہم ملاقات کرینگے
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران پر دوسری جنگ عظیم کے بعد کا سب سے بڑا حملہ کرنے والا تھا، ایران پرحملے کو ابھی منسوخ کر دیا گیا ہے، میں معاہدہ کرنا پسند کروں گا کیونکہ لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہتا۔













جمعرات 6 اگست 2026 

