عالمی منڈی میں پیر کے روز سونے کی قیمتوں(Gold Rates) میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بنیادی وجہ سرمایہ کاروں کی جانب سے گزشتہ ہفتے ہونے والے نمایاں اضافے کے بعد منافع کا حصول ہے۔ سونے کی قیمت گزشتہ ہفتے سات ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، تاہم اب مارکیٹ کی توجہ رواں ہفتے جاری ہونے والے اہم امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار پر مرکوز ہوگئی ہے، جن سے امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی کے حوالے سے اہم اشارے ملنے کی توقع ہے۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے بعد 4,322.28 ڈالر فی اونس پر آگئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 4,381.60 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔
کے سی ایم ٹریڈ (KCM Trade) کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر (Tim Waterer) کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکی نان فارم پے رولز کے کمزور اعدادوشمار نے سونے کی قیمتوں کو خاصی تقویت دی تھی، تاہم موجودہ کمی مارکیٹ میں منافع کے حصول کا ایک فطری عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قلیل مدت میں سونے کی قیمت 4,300 ڈالر فی اونس کی سطح سے اوپر برقرار رہنے کا امکان ہے۔
امریکی روزگار کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی میں ملکی معیشت میں غیر متوقع طور پر ملازمتوں کی تعداد میں کمی ہوئی، جبکہ گزشتہ دو ماہ کے روزگار کے اعدادوشمار میں بھی نمایاں کمی کی گئی۔ کمزور روزگار کے اعدادوشمار کے بعد مالیاتی منڈیوں میں یہ توقعات مضبوط ہوئی ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو ستمبر کے اجلاس میں شرح سود برقرار رکھ سکتا ہے۔
مارکیٹ کی نظریں اب رواں ہفتے جاری ہونے والے امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار پر ہیں۔ بدھ کو کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) جبکہ جمعرات کو پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) کے اعدادوشمار جاری کیے جائیں گے۔ سرمایہ کار ان رپورٹس کا جائزہ لے کر یہ اندازہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ امریکی مرکزی بینک مستقبل میں شرح سود کے حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کرسکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:اہلیہ 6 سالہ بیٹے سے ملنے نہیں دے رہیں: جنید اکرم نے ازدواجی مشکلات پر خاموشی توڑ دی
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار توقعات سے کم رہتے ہیں تو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا امکان مزید مؤخر ہوسکتا ہے، جبکہ مستقبل میں شرح سود میں کمی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال عموماً سونے کے لیے مثبت سمجھی جاتی ہے، کیونکہ کم شرح سود کے ماحول میں بغیر منافع دینے والے اثاثے کے طور پر سونے کی کشش میں اضافہ ہوتا ہے۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ پر اثرانداز ہونے والے اہم عوامل میں شامل ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق حالیہ پیش رفت اور خطے میں جاری کشیدگی نے سرمایہ کاروں میں جغرافیائی سیاسی خطرات کے حوالے سے تشویش برقرار رکھی ہے۔ ایسی غیر یقینی صورتحال میں سونے کو روایتی طور پر ایک محفوظ سرمایہ کاری کے اثاثے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں کسی بھی بڑی جغرافیائی سیاسی پیش رفت کے نتیجے میں قیمتوں میں دوبارہ تیزی آسکتی ہے۔
ادھر دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی۔ چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتیں بھی عالمی مارکیٹ میں قدرے نیچے رہیں، جبکہ سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی مہنگائی کے اعدادوشمار اور فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی کے ممکنہ رخ پر مرکوز ہے۔













پیر 10 اگست 2026 

