سونا مسلسل تیسرے روز مہنگا، دو ماہ کی بلند ترین سطح پر

Calender Icon منگل 11 اگست 2026

عالمی منڈی میں سونے کی قیمت (Gold Rates)میں منگل کے روز مسلسل تیسرے دن اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے نتیجے میں قیمتی دھات کی قیمت دو ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ سرمایہ کاروں کی توجہ اب امریکا میں رواں ہفتے جاری ہونے والے مہنگائی کے اہم اعدادوشمار پر مرکوز ہے، جن سے امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ شرح سود پالیسی کے حوالے سے مارکیٹ کو اہم اشارے ملنے کی توقع ہے۔

اسپاٹ گولڈ کی قیمت ایک فیصد اضافے کے بعد 4,432.74 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جو 5 جون کے بعد سونے کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت میں 1.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 4,492.60 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہے۔

آئی جی (IG) کے مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سیکامور (Tony Sycamore) کے مطابق سونے کی حالیہ تیزی کی ایک اہم وجہ سرمایہ کاروں میں موقع ضائع ہونے کا خدشہ یعنی ’فومو‘ ہے، خصوصاً وہ سرمایہ کار جو 4,000 ڈالر فی اونس کی سطح پر سونا خریدنے سے محروم رہے۔ ان کے مطابق مختصر مدتی سرمایہ کاری پوزیشنز بند کیے جانے اور عالمی سطح پر محفوظ سرمایہ کاری کے اثاثوں کی طلب میں اضافے نے بھی سونے کی قیمتوں کو مزید سہارا دیا ہے۔

ٹونی سیکامور کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمت میں موجودہ رفتار برقرار رہنے کی صورت میں درمیانی مدت میں قیمتی دھات 5,000 ڈالر فی اونس کی سطح کی جانب پیش قدمی کرسکتی ہے۔ تاہم اس کا انحصار عالمی معاشی اعدادوشمار، امریکی شرح سود کی پالیسی اور جغرافیائی سیاسی صورتحال پر ہوگا۔

مارکیٹ کی نظریں اب امریکا کے مہنگائی کے اعدادوشمار پر مرکوز ہیں۔ بدھ کو صارفین کی قیمتوں کے اشاریے (CPI) جبکہ جمعرات کو پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) کے اعدادوشمار جاری کیے جائیں گے۔ یہ اعدادوشمار امریکی فیڈرل ریزرو کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جارہے ہیں، کیونکہ مہنگائی کی رفتار سے شرح سود کے مستقبل کے فیصلوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:آبنائے ہرمز پر خدشات، خام تیل کی قیمتیں بلند سطح پر

گزشتہ ہفتے جولائی کے کمزور امریکی روزگار کے اعدادوشمار سامنے آنے کے بعد مالیاتی منڈیوں میں شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات کم ہوئی ہیں۔ کمزور لیبر مارکیٹ کے اعدادوشمار نے سرمایہ کاروں کے اس خیال کو تقویت دی ہے کہ امریکی مرکزی بینک مستقبل میں شرح سود کے حوالے سے نسبتاً نرم پالیسی اختیار کرسکتا ہے۔

امریکی فیڈرل ریزرو نے جولائی کے اجلاس میں شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم تین ارکان نے اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے شرح سود میں اضافے کی حمایت کی تھی۔ سرمایہ کار اب یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ مہنگائی کے تازہ اعدادوشمار فیڈرل ریزرو کی پالیسی میں کسی ممکنہ تبدیلی کے امکانات کو کس حد تک متاثر کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کم شرح سود کا ماحول عموماً سونے کے لیے سازگار ہوتا ہے، کیونکہ سونا کوئی باقاعدہ سود یا منافع ادا نہیں کرتا۔ جب شرح سود کم ہونے یا مستقبل میں کمی کی توقع بڑھتی ہے تو سرمایہ کاروں کے لیے سونے جیسے غیر سودی اثاثے کی کشش میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط کردیا ہے۔ خطے میں جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کے اثاثوں کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، جس سے سونے کی قیمت کو اضافی سہارا مل رہا ہے۔

دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چاندی کی قیمت 0.9 فیصد اضافے کے بعد 66.30 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ پلاٹینم 0.7 فیصد بڑھ کر 1,765.26 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔ پیلاڈیم کی قیمت میں بھی 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1,394 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوا۔