اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران ایک بار پھر امن معاہدے یا کسی ڈیل کے قریب پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں۔
امریکی جریدے بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ دو تین روز کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے مثبت اشارے سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملات امن کے حق میں آگے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں، تاہم انہوں نے ممکنہ معاہدے یا مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان پائیدار امن پورے خطے کے مفاد میں ہوگا۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں امن کی طرف پیش رفت ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔
مزید پڑھیں:
دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو بعض بحری جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات بھی اہم مرحلے میں داخل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد اثاثے بحال کرنے اور جنگی نقصانات کا معاوضہ دینے سمیت مختلف مطالبات کیے ہیں۔
خواجہ آصف کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر دباؤ بڑھا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ سے چین تک تیل کی ترسیل کے لیے سپر ٹینکرز کے کرایوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
خطے میں کشیدگی کے دوران خلیج عمان اور بحیرہ احمر کے قریب بحری جہازوں سے متعلق مختلف واقعات کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔













منگل 11 اگست 2026 

