عمران خان نے ڈیل کرنی ہوتی تو 3 سال جیل میں نہ گزارتے، بیرسٹر گوہر

Calender Icon پیر 24 اگست 2026

اسلام آباد،چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ اگر ڈیل ہی کرنی ہوتی تو عمران خان تین سال سے زائد کا عرصہ قید میں نہ گزارتے۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ انہوں نے سینئر وکیل لطیف کھوسہ کے ہمراہ رجسٹرار سپریم کورٹ سے ملاقات کی ہے، اگرچہ چیف جسٹس سے ان کی مصروفیت کے باعث ملاقات نہیں ہوسکی۔

، تاہم رجسٹرار نے توہینِ عدالت کی درخواست پر بینچ کی تشکیل کے حوالے سے یقین دہانی کرائی ہے اور یہ عمل آن لائن بھی مکمل ہو سکتا ہے، امید ہے درخواست پر جلد نمبر لگ کر سماعت مقرر کی جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے آرڈر میں کسی قسم کا کوئی ابہام یا ابہام کی گنجائش نہیں تھی اور اس پر من و عن عمل ہونا چاہیے تھا، تاہم حکومت کی جانب سے عمران خان کو نہ تو عدالت کے تجویز کردہ ہسپتال منتقل کیا گیا اور نہ ہی مقرر کردہ میڈیکل بورڈ میں ان افراد کو شامل کیا گیا جن کی ہدایت کی گئی تھی، اس معاملے سمیت دیگر معاملات پر آج پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن جماعتوں کا ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں:کابینہ نجکاری کمیٹی نے 3 ڈسکوز کے ری اسٹرکچرنگ پلان کی منظوری دے دی

بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کسی بھی قسم کے سیاسی سمجھوتے یا ڈیل کے امکانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان اصولوں پر قائم ہیں اور وہ کبھی کوئی ڈیل نہیں کرتے، اگر ڈیل ہی کرنی ہوتی تو وہ تین سال سے زائد کا عرصہ قید میں نہ گزارتے، عمران خان کا ہسپتال میں ایک منٹ بھی اضافی رہنے کا کوئی ارادہ نہیں، وہ صرف اور صرف اپنے ضروری اور بنیادی طبی ٹیسٹ کروانا چاہتے ہیں تاکہ صحت کی اصل صورتحال سامنے آ سکے۔