پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز کھانے کے وقفے کے دوران سابق وزیراعظم اور سابق کپتان عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر کرنے پر برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی اسپورٹس (Sky Sports) کے خلاف باضابطہ شکایت کردی۔ انٹرویو میں عمران خان کے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان نے اپنے والد کی صحت کے بارے میں شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ان کی زندگی کے حوالے سے بھی تشویش ہے۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی نے احتجاجاً یہ آپشن بھی زیرِ غور لایا تھا کہ پاکستان کی ٹیم لنچ کے بعد دوبارہ میدان میں نہ اترے۔ تاہم بالآخر پاکستانی کھلاڑی مقررہ وقت پر دوسرے سیشن کے لیے میدان میں واپس آگئے۔
پی سی بی نے اسکائی اسپورٹس کو پہلے ہی احتجاج سے آگاہ کردیا تھا
کرک انفو (Cricinfo) کے مطابق پی سی بی نے لنچ بریک سے قبل اسکائی اسپورٹس سے رابطہ کرکے مذکورہ انٹرویو نشر کرنے پر شدید احتجاج کیا تھا۔ بورڈ نے مبینہ طور پر نشریاتی ادارے کو خبردار کیا تھا کہ اگر انٹرویو نشر کیا گیا تو پاکستانی کھلاڑی لنچ کے بعد میدان میں واپس نہیں آئیں گے۔
بات چیت کے دوران اسکائی اسپورٹس نے انٹرویو کچھ دیر کے لیے مؤخر کردیا، تاہم بعدازاں تقریباً 18 منٹ پر مشتمل انٹرویو نشر کردیا گیا۔
انٹرویو ختم ہونے تک پاکستان کی ٹیم دوسرے سیشن کے لیے میدان میں واپسی کی تیاری کرچکی تھی، اس لیے ٹیم نے بالآخر اپنا احتجاج میدان میں نہ اترنے کی صورت میں عملی شکل نہیں دیا۔
مائیک ایتھرٹن نے عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو کیا
سابق انگلش کپتان اور موجودہ اسکائی اسپورٹس براڈکاسٹر مائیک ایتھرٹن (Mike Atherton) نے بدھ کی صبح لارڈز کے رائٹرز روم میں عمران خان کے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان کا انٹرویو کیا۔
اسکائی اسپورٹس نے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ سے قبل اس انٹرویو کا ایک مختصر ٹیزر بھی نشر کیا تھا۔
پاکستان میں اس سیریز کے نشریاتی حقوق رکھنے والے پاکستان ٹیلی وژن (PTV) نے یہ انٹرویو نشر نہیں کیا۔
انٹرویو کے دوران عمران خان کے بیٹوں نے اپنے والد کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ تقریباً تین سال سے قید عمران خان کی زندگی کو خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ہے۔
عمران خان کی صحت پر عالمی سطح پر تشویش
عمران خان کی صحت گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور ان کے بیٹوں نے انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔
مزیدپڑھیں:متحدہ عرب امارات میں پاکستانی ورک ویزا ہولڈرز کے لیے نئے قواعد و ضوابط جاری
گزشتہ ہفتے پاکستان کی سپریم کورٹ نے عمران خان کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرکے علاج کرانے کا حکم دیا تھا۔ تاہم انہیں شفا اسپتال کے بجائے سرکاری پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) لے جایا گیا اور طبی معائنے کے کچھ ہی عرصے بعد دوبارہ جیل منتقل کردیا گیا۔
عمران خان کی بہنوں اور بیٹوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں شفا اسپتال منتقل نہ کرنا سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ اہل خانہ نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ عمران خان کو ان کے ذاتی معالج سے طبی معائنہ کرانے کی اجازت دی جائے۔
21 سابق کپتانوں نے شہباز شریف کو خط لکھا
عمران خان کی صحت کے معاملے پر کرکٹ کی دنیا سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ گزشتہ ہفتے انگلینڈ کے سابق کپتان مائیک ایتھرٹن سمیت 21 سابق کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر عمران خان کو جیل میں مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کی اپیل کی تھی۔
اس خط میں بھارت، آسٹریلیا، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ سمیت مختلف ممالک کے سابق کپتان شامل تھے۔
یہ اس معاملے پر سابق کرکٹرز کی جانب سے دوسرا خط تھا۔ اس سے قبل فروری میں 14 سابق کپتانوں نے بھی پاکستانی حکومت کو خط لکھا تھا، تاہم اس خط کا حکومت کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔
پاکستانی حکومت کا مؤقف
دوسری جانب پاکستانی حکومت نے گزشتہ ہفتے ایسوسی ایٹڈ پریس (Associated Press) کو دیے گئے ایک بیان میں عمران خان کے ساتھ جیل میں بدسلوکی یا انہیں اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات سے روکنے کے الزامات کو مسترد کیا تھا۔
حکومت کے مطابق اگست 2023 میں گرفتاری کے بعد سے عمران خان سے ان کے اہل خانہ، وکلا اور ڈاکٹروں کی جانب سے 900 سے زائد ملاقاتیں کی جاچکی ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ عمران خان کو جیل میں ضروری سہولیات اور ملاقاتوں کی اجازت حاصل ہے، جبکہ ان کے اہل خانہ اور حامی ان کے علاج اور طبی سہولیات کے حوالے سے مختلف خدشات کا اظہار کررہے ہیں۔
پاکستان نے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا
اس تمام تنازع کے باوجود پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے لنچ کے بعد مقررہ وقت پر میدان میں واپسی کی اور میچ جاری رکھا۔
کرک انفو نے پی سی بی سے واقعے پر باضابطہ مؤقف حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔ اسکائی اسپورٹس کے انٹرویو پر پی سی بی کی شکایت نے کرکٹ اور سیاست کے درمیان حساس تعلق کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کردیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عمران خان کی صحت کا معاملہ ملک کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر زیرِ بحث ہے۔













جمعہ 28 اگست 2026 

