سینیئر اداکارہ بشریٰ انصاری(Bushra ansari) نے پمز میں پیش آنے والے واقعے پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اپنے بیان میں بشریٰ انصاری نے مصطفیٰ کمال کی جانب سے شہری کو تصویر بنوانے کے شوق کا طعنہ دینے پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ کسی شہری سے اس طرح بدسلوکی کیسے کی جا سکتی ہے؟ اپنے رویوں پر غور کریں۔
“LOG PARESHAN HAIN OR AP UNKO DAANT RAHAY, APKI ITNI JURRAT”
Veteran actress Bushra Ansari criticized Federal Health Minister Mustafa Kamal over his reaction during PIMS fire incident’ media talk.#PIMS #MustafaKamal #BushraAnsari #Karachi #TOKReports pic.twitter.com/pl5pCqav1b
— Times of Karachi (@TOKCityOfLights) August 27, 2026
اداکارہ کا کہنا تھا کہ لوگ کسی ادارے کی ناقص کارکردگی یا مسائل کی شکایت کریں گے کیونکہ وہ پریشان ہیں۔ ان کے مطابق عوام کی شکایات سننے اور انہیں جواب دینے کے بجائے انہیں ڈانٹنا مناسب رویہ نہیں۔
مزیدپڑھیں:سوشل میڈیا اور پروپیگنڈے سے متاثر دنیا میں حقائق پر مبنی تجزیہ اہم ہے، فیلڈ مارشل
بشریٰ انصاری نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک طرزِ عمل ہے، متعلقہ حکام کو اپنے رویوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ جس عہدے کی تنخواہ اور مراعات حاصل کی جا رہی ہیں اس کی ذمہ داریوں کو بھی سمجھنا چاہیے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ آپ نے آگ لگا دی۔ آپ کے ماتحت ایک ادارہ ہے لوگ اس کی شکایت کریں گے۔ وہ پریشان ہیں آپ کا منہ بھی نوچ سکتے ہیں اور آپ ان کو ڈانٹ رہے ہیں، آپ کو ڈانٹنے کی اتنی جرأت کیسے ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نمائندوں کو چاہیے کہ وہ شہریوں کی شکایات تحمل سے سنیں، نہ کہ بزرگوں اور عام لوگوں کو ڈانٹیں یا ان کے ساتھ بدسلوکی کریں۔ بشریٰ انصاری نے زور دیا کہ عوامی مسائل اور شکایات سننا متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے اور انہیں اپنے رویوں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔













جمعہ 28 اگست 2026 

