عالمی منڈی میں سونے کی قیمت(Gold Rates) میں جمعہ کو کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کی جیکسن ہول سمپوزیم میں ہونے والی اہم تقریر کے منتظر ہیں، جس سے امریکی شرح سود کی آئندہ سمت کے حوالے سے مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد کمی کے بعد 4,576.30 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز 0.8 فیصد کمی کے بعد 4,629 ڈالر فی اونس پر آگئے۔ رواں ہفتے کے آغاز میں امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے طویل مدتی بانڈز کے لیے معاون اقدامات کے اعلان کے بعد سونے کی قیمت تین ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔
اسٹون ایکس کے سینئر تجزیہ کار میٹ سمپسن نے کہا کہ کیون وارش کی جانب سے سخت مالیاتی پالیسی کی حمایت میں بیان سامنے آنے کا امکان زیادہ ہے۔ ان کے مطابق ایسا بیان قلیل مدت میں سونے کی قیمت کو حالیہ بلند سطح سے مزید نیچے لاسکتا ہے۔
تاہم تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ سونے کی قیمت میں ممکنہ کمی بعض سرمایہ کاروں کے لیے خریداری کا موقع بھی بن سکتی ہے۔ وہ سرمایہ کار جو حالیہ تیزی کے دوران سونا خریدنے سے محروم رہے، قیمت کم ہونے کی صورت میں دوبارہ مارکیٹ میں داخل ہوسکتے ہیں اور سونے کی قیمت کے 5,000 ڈالر فی اونس کی سطح آزمانے کی امید برقرار رکھ سکتے ہیں۔
جیکسن ہول میں جمعرات کو موجود مرکزی بینک کے حکام نے امریکی افراط زر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس سے قبل جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کا اہم افراط زر پیمانہ پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچرز (PCE) پرائس انڈیکس جولائی تک 12 ماہ کے دوران 3.7 فیصد رہا۔
مارکیٹ میں امریکی شرح سود کے حوالے سے بھی توقعات میں تبدیلی دیکھی جارہی ہے۔ سی ایم ای فیڈ واچ کے مطابق ستمبر میں امریکی شرح سود میں اضافے کا امکان 33.9 فیصد جبکہ دسمبر تک شرح سود میں اضافے کا امکان 74 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا متنازع ٹیلی کام ترمیمی بل واپس لینے کا فیصلہ
ماہرین کے مطابق بلند شرح سود سونے کے لیے عمومی طور پر منفی عنصر سمجھی جاتی ہے، کیونکہ سونا کوئی باقاعدہ منافع یا شرح سود فراہم نہیں کرتا۔ اس کے نتیجے
میں زیادہ شرح سود والے ماحول میں سرمایہ کاروں کے لیے سود یا منافع دینے والے اثاثے نسبتاً زیادہ پرکشش ہوجاتے ہیں۔
تاہم دوسری جانب ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) میں سرمایہ کاری، گولڈ فیوچرز میں بڑھتی ہوئی دلچسپی، امریکی مالیاتی ساکھ سے متعلق خدشات اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی مسلسل خریداری قیمتی دھات کی قیمت کو سہارا دے رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی معاشی اور مالیاتی غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں سونے کی طلب میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر مرکزی بینکوں کی جانب سے اپنے ذخائر میں سونے کا حصہ بڑھانے کا رجحان قیمتوں کے لیے اہم معاون عنصر بن سکتا ہے۔
دریں اثنا دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسپاٹ سلور ایک فیصد کمی کے بعد 68.54 ڈالر فی اونس، پیلیڈیم 0.8 فیصد کمی کے بعد 1,339.84 ڈالر جبکہ پلاٹینم 0.6 فیصد کمی کے بعد 1,834.83 ڈالر فی اونس پر آگیا۔













جمعہ 28 اگست 2026 

