فلپائن میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باوجود ایک جوڑے نے ہمت نہ ہاری اور گھٹنوں تک بھرے پانی میں کیتھولک چرچ کے اندر شادی کرلی۔ شمالی منیلا کے علاقے ہاگونوی میں واقع سینٹ جان دی بپٹسٹ چرچ گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے سیلابی پانی میں گھرا ہوا ہے، تاہم لیان لیزا گالانگ (Leian Lieza Galang) اور گلبرٹ چیکو (Gilbert Chico) نے اپنی شادی ملتوی کرنے کے بجائے مقررہ دن ہی رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کا فیصلہ کیا۔
منگل کے روز ہونے والی شادی کی تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں، جن میں دلہن سفید عروسی لباس اور ہاتھ میں سفید پھولوں کا گلدستہ لیے چرچ کے اندر موجود گدلے اور بھورے رنگ کے سیلابی پانی سے گزرتی دکھائی دیتی ہیں۔ پانی کی سطح بعض مقامات پر تقریباً کمر تک پہنچ رہی تھی۔
دولہا گلبرٹ چیکو نے بتایا کہ دونوں نے شادی کے موقع پر مکمل لباس زیب تن کیا ہوا تھا اور انہیں اس بات کی پروا نہیں تھی کہ عروسی لباس اور کوٹ پانی سے بھیگ جائیں گے۔ ان کے مطابق شادی کسی صورت ملتوی نہیں کرنا چاہتے تھے۔
شادی کے فوٹوگرافر میکو رے الفونسو (Mikko Rey Alfonso) کے مطابق جوڑے، جن کی عمریں 30 برس سے زائد ہیں، نے صبح کے اواخر میں ایک مختصر تقریب کے دوران چرچ کے پادری کے سامنے شادی کی رسومات مکمل کیں اور پادری نے دونوں کو میاں بیوی قرار دے دیا۔
فوٹوگرافر نے بتایا کہ چرچ انتظامیہ نے بڑھتے ہوئے سیلابی پانی کے پیش نظر جوڑے کو شادی ملتوی کرنے کا مشورہ دیا تھا، تاہم شادی جاری رکھنے یا ملتوی کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر جوڑے کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چرچ تقریباً ایک ماہ سے جزوی طور پر زیر آب ہے، لیکن چونکہ جوڑا ہر صورت شادی کرنا چاہتا تھا، اس لیے چرچ سے وابستہ افراد نے اپنی پوری کوشش کی کہ ان کے لیے یہ دن یادگار بنایا جاسکے۔
فلپائن میں اگست کے دوران معمول سے زیادہ شدید مون سون بارشوں نے ملک کے شمالی حصے کو شدید متاثر کیا۔ موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک آنے والے سیلاب سے 34 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ متعدد علاقوں میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
فوٹوگرافر میکو رے الفونسو نے جوڑے کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور کوئی بھی چیز ان کے ملاپ کو نہیں روک سکتی تھی۔
مزیدپڑھیں:کلاسیکل رقص کی استاد اندو مِتھا 97 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں
چرچ کے فیس بک پیج پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دلہن کو چرچ کے خالی بینچوں کے سامنے اپنے والدین سے گلے ملتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ چرچ کی نشستوں کو پلاسٹک کے پھولوں سے سجایا گیا تھا، جبکہ فرش پر موجود سیلابی پانی پوری تقریب کے دوران سب سے بڑا چیلنج بنا رہا۔
شادی کی ایک تصویر میں ایک کم عمر لڑکے کو شادی کی انگوٹھیاں لے کر چرچ کی راہداری میں چلتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ اس کے جسم کے تقریباً کمر تک سیلابی پانی موجود تھا۔
دولہا اور دلہن چرچ پہنچنے کے لیے ایک ایسی رکشہ نما سواری میں سوار ہوکر آئے جس کا چیسز عام گاڑیوں کے مقابلے میں بلند تھا۔ گلبرٹ چیکو کے مطابق اس انتظام کی وجہ سے وہ چرچ کے صحن تک پہنچنے سے پہلے اپنے عروسی لباس کو سیلابی پانی سے محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے۔
دلہن کو چرچ کے اندر پانی سے گزرنے میں آسانی فراہم کرنے کے لیے اس کے عروسی لباس میں بھی تبدیلی کرنا پڑی۔ فوٹوگرافر کے مطابق لباس کے پچھلے حصے میں موجود لمبی ٹرین کو مختصر کیا گیا تاکہ وہ پانی میں چلتے ہوئے اسے سنبھال سکے اور پھسلنے یا لباس کے مزید خراب ہونے کا خطرہ کم ہو۔
فوٹوگرافر نے بتایا کہ تقریب میں 15 سے بھی کم افراد شریک ہوئے۔ سیلاب کے باعث عام شادیوں کے مقابلے میں یہ ایک انتہائی مختصر اور غیر معمولی تقریب تھی، تاہم جوڑے کے لیے اس کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔
گلبرٹ چیکو مشرق وسطیٰ میں رِگر (Rigger) کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں کی شادی اصل میں دسمبر میں طے کی گئی تھی، تاہم حالات اور ان کے فیصلے کے باعث شادی کی تقریب مقررہ تاریخ سے پہلے ہی منعقد کردی گئی۔
شدید بارش، سیلابی پانی اور چرچ کی مشکل صورتحال کے باوجود لیان لیزا گالانگ اور گلبرٹ چیکو نے اپنی شادی کو ملتوی کرنے سے انکار کرکے ثابت کیا کہ بعض اوقات محبت اور عزم حالات سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتے ہیں۔ ان کی زیرِ آب شادی کی تصاویر اب سوشل میڈیا پر ایک منفرد اور یادگار محبت کی داستان کے طور پر گردش کررہی ہیں۔













بدھ 2 ستمبر 2026 

