اسلام آباد: ڈیپ ویب (Deep Web) انٹرنیٹ کے اس تمام حصے کو کہا جاتا ہے جو عام سرچ انجنز جیسے کہ گوگل یا بینگ پر انڈیکس نہیں ہوتا، جس میں عام صارفین کے ای میل اکاؤنٹس، آن لائن بینکنگ کا ڈیٹا، طبی ریکارڈز اور پاس ورڈ کے تحت چلنے والی ویب سائٹس شامل ہیں۔ دوسری طرف ڈارک ویب (Dark Web) اسی کا ایک بہت چھوٹا سا حصہ ہے جو مخصوص اور خفیہ نیٹ ورکس (جیسےٹور یا Tor) پر قائم چھپی ہوئی سروسز پر مشتمل ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر دونوں میں فرق یہ ہے کہ ڈیپ ویب گوگل پر دستیاب نہ ہونے جبکہ ڈارک ویب جان بوجھ کر چھپائی گئی تکنیک کا نام ہے۔
انٹرنیٹ کی ایک مشہور تصویری مثال (آئس برگ سلائیڈ) جس میں ڈیپ ویب اور ڈارک ویب کو ایک ہی زمرے میں خطرناک دکھایا جاتا ہے، وہ محض خوف پھیلانے کی حد تک درست معلوم ہوتی ہے، کیونکہ انٹرنیٹ کا زیادہ تر حصہ ہمیشہ سے نان انڈیکسڈ (Unindexed) ہی رہا ہے اور یہ کوئی جرم یا مجرمانہ کارروائی نہیں ہے۔
ڈیپ ویب انٹرنیٹ کا وہ عام اور معمول کا حصہ ہے جسے لوگ روزمرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں لیکن وہ کسی عام سرچ انجن پر تلاش کرنے سے نہیں ملتا۔ اس کی عام مثالوں میں جی میل اکاؤنٹ، ہسپتالوں کے ریکارڈ سسٹمز، یونیورسٹی کے معلوماتی پورٹلز، بینکنگ کی ویب سائٹس اور کسی کمپنی کے اندرونی سسٹمز شامل ہیں۔ اس تک رسائی کے لیے کسی مخصوص براؤزر کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ صرف صحیح پاس ورڈ یا لاگ ان معلومات درکار ہوتی ہیں۔ ایک اہم غلط فہمی یہ بھی ہے کہ ڈیپ ویب پر ہونا مکمل طور پر محفوظ ہونے کی ضمانت ہے، حالانکہ ڈیٹا لیکس وہاں بھی ہو سکتے ہیں، تاہم صرف کسی سائٹ کے ڈیپ ویب پر ہونے سے وہ غیر قانونی یا پراسرار نہیں بن جاتی۔
عوامی اور تکنیکی زبان میں ڈارک ویب سے مراد وہ تمام سروسز اور سائٹس ہیں جو شناخت چھپانے والے اوورلے نیٹ ورکس یعنی انین سروسز (Tor Onion Services) یا I2P پر چلتی ہیں۔ ان سسٹمز کا بنیادی مقصد سرور کی اصل لوکیشن اور صارفین کی پہچان کو مکمل طور پر پوشیدہ رکھنا ہے۔ صحافی، محققین اور نگرانی کا شکار افراد سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان آلات کا جائز استعمال کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ مجرم جنہیں عام انٹرنیٹ پر سامنے آنے کا ڈر ہوتا ہے، وہ بھی اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے اس پلیٹ فارم کا رخ کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ “ڈارک” کا لفظ بذاتِ خود غیر قانونی ہونے کی علامت نہیں ہے کیونکہ جرم کسی عمل سے ہوتا ہے، نہ کہ محض کسی نیٹ ورک کے زمرے سے۔
عام غلط فہمیوں کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ وی پی این (VPN) کا مطلب ڈارک ویب نہیں ہے؛ وی پی این صرف آپ کے انٹرنیٹ ٹریفک کو ایک محفوظ اینکرپٹڈ راستے کے ذریعے بھیجتا ہے اور یہ آپ کو ڈارک ویب سے نہیں جوڑتا۔ اسی طرح پرائیویٹ یا انکوگنیٹو موڈ (Incognito Mode) استعمال کرنے سے ڈیپ ویب نہیں بنتا، کیونکہ انکوگنیٹو موڈ صرف کمپیوٹر کی لوکل ہسٹری کو محفوظ کرنے سے روکتا ہے۔ علاوہ ازیں، تمام غیر انڈیکس شدہ مواد مجرمانہ نہیں ہوتا؛ کمپنیوں کے پے رول پورٹل یا ذاتی ای میل بھی نان انڈیکسڈ ہی ہوتے ہیں تاکہ معلومات محفوظ رہ سکیں۔
— سائبر سیکورٹی ماہرین نے انٹرنیٹ کی اندرونی ساخت، اس کے تکنیکی نیٹ ورکس اور عام صارفین کے تحفظ سے متعلق مزید تکنیکی تفصیلات جاری کر دی ہیں، جن میں انٹرنیٹ کے حجم اور اس کی مختلف سطحوں کی اینکرپشن پر روشنی ڈالی گئی ہے۔انٹرنیٹ کے حجم کا موازنہ کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ جسے ہم عام سرچ انجنز جیسے کہ گوگل یا بینگ پر دیکھتے ہیں، وہ سرفیس ویب ہے جو کہ پورے انٹرنیٹ کا محض 4 سے 5 فیصد حصہ تشکیل دیتی ہے۔
اس کے برعکس ڈیپ ویب انٹرنیٹ کے تقریباً 90 سے 95 فیصد حصے پر محیط ہے، جس میں تمام پاس ورڈ سے محفوظ ڈیٹا بیسز، سائنسی تحقیقاتی مقالے اور کاروباری انترانیٹ سسٹمز شامل ہیں۔
دوسری جانب ڈارک ویب پورے انٹرنیٹ کا 0.01 فیصد سے بھی کم حصہ ہے، جس تک رسائی صرف مخصوص اور انکرپٹڈ نیٹ ورکس کے ذریعے ہی ممکن ہوتی ہے۔تکنیکی ورکنگ اور انکرپشن کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈیپ ویب عام ہائپر ٹیکسٹ ٹرانسفر پروٹوکول (HTTP/HTTPS) اور کروم یا فائر فاکس جیسے معیاری ویب براؤزرز پر ہی کام کرتا ہے، جہاں ڈیٹا تک رسائی صرف لاگ ان فارمز یا پے والز کے ذریعے روکی جاتی ہے۔
دوسری جانب ڈارک ویب اوورلے نیٹ ورکس (Overlay Networks) یعنی ٹور (Tor – The Onion Router) جیسے خصوصی پلیٹ فارمز کا استعمال کرتا ہے۔ اس نظام میں ڈیٹا مختلف نوڈز اور لیئرز سے گزر کر منتقل ہوتا ہے، جس کے باعث بھیجنے اور وصول کرنے والے کا IP ایڈریس مکمل طور پر مخفی رہتا ہے۔سائبر سیکیورٹی رسک اور ڈیٹا لیکس کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کسی کمپنی کا ڈیٹا بیس ہیک ہوتا ہے تو وہ عام طور پر کریڈینشل سٹفنگ یا فروخت کے لیے ڈارک ویب فورمز پر اپ لوڈ کر دیا جاتا ہے۔
صارفین کو حفاظتی تدابیر تجویز کرتے ہوئے ماہرین نے کہا ہے کہ وہ اپنے ای میل اور پاس ورڈز کے محفوظ ہونے کی تصدیق کے لیے haveibeenpwned.com جیسی معتبر سائٹس کا استعمال کریں۔ اس کے علاوہ ڈارک ویب سکیننگ کا دعویٰ کرنے والے غیر تصدیق شدہ اور مہنگے سافٹ ویئرز پر پیسے ضائع کرنے کے بجائے ملٹی فیکٹر اتھینٹیکیشن (MFA) اور مضبوط پاس ورڈ مینیجرز کے استعمال کو لازمی بنائیں۔
سائبر تحفظ کے حوالے سے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر کسی صارف کو پاس ورڈ لیک ہونے کا الرٹ آئے تو اسے ایک عام سائبر ڈراوا سمجھتے ہوئے فوراً اپنے اکاؤنٹ کا پاس ورڈ تبدیل کر کے ٹو فیکٹر اتھینٹیکیشن (2FA) فعال کرنی چاہیے۔ تمام اکاؤنٹس کے لیے مضبوط اور الگ الگ پاس ورڈز استعمال کیے جائیں اور ویب سائٹس پر وائرس کا شکار ہونے کے جعلی پاپ اپس سے ہوشیار رہا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر کسی بھی اجنبی کو گفٹ کارڈز یا غیر تصدیق شدہ ذرائع سے رقم بھیجنے سے گریز کیا جائے۔













بدھ 2 ستمبر 2026 

