کراچی: پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے حکومت کی جانب سے تیار کردہ ریلیف اسکیم کے طریقہ کار کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی روکنے کا اعلان کیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین انوار کمال نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے جو ریلیف اسکیم تیار کی گئی ہے، اس کی تیاری کے عمل میں پیٹرولیم ڈیلرز کو بالکل بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی ان سے کسی قسم کی مشاورت کی گئی۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ موجودہ طریقہ کار پر عملی طور پر عمل درآمد کرنا کسی بھی طرح ممکن نہیں ہے۔
انوار کمال کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوئی ایسا طریقہ کار اختیار کرے جو براہ راست اور آسان ہو، تاکہ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ کاروبار سے وابستہ افراد کو بھی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ملک میں جاری شدید مہنگائی کی وجہ سے پیٹرولیم ڈیلرز کا سرمایہ پہلے ہی بری طرح متاثر ہو چکا ہے، اور اس کے علاوہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے اربوں روپے کے واجبات بھی تاحال زیرِ التوا پڑے ہیں جن کی ادائیگی نہیں کی گئی۔
وائس چیئرمین پی پی ڈی اے نے مزید کہا کہ اس ریلیف اسکیم کا سارا مالی بوجھ ڈیلرز پر ڈالا جا رہا ہے جو کہ کسی بھی صورت میں قابلِ عمل نہیں ہے۔ انہوں نے ڈیلرز کے دیرینہ مطالبات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیلرز کے مارجن میں اضافہ کیا جانا چاہیے، اور اس وقت تک حکومت کی موجودہ ریلیف اسکیم کے تحت پیٹرول صارفین کو فراہم نہیں کیا جائے گا۔
انوار کمال نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ حکومت اس اسکیم کے تحت فراہم کیے جانے والے سستے پیٹرول کی رقم ڈیلرز کو کس طریقے سے ادا کرے گی؟ اس اہم معاملے پر انہوں نے انکشاف کیا کہ پچھلے تین دن سے وہ مسلسل حکومت سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ تاحال حکومتی حلقوں کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔













بدھ 16 ستمبر 2026 

