سونے کی قیمت(Gold Rates) میں جمعہ کے روز معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جسے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی اور امریکی ڈالر کی قدر میں محدود اتار چڑھاؤ سے تقویت ملی۔ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی توجہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور دنیا بھر میں مرکزی بینکوں کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے امکانات پر مرکوز رہی۔
عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.2 فیصد اضافے کے بعد 4,346.65 ڈالر فی اونس ہوگئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت 0.3 فیصد کمی کے بعد 4,385.70 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً ایک فیصد کمی ہوئی۔ حالیہ بلند ترین سطح سے نیچے آنے کے بعد امریکی ڈالر کی قدر میں بھی محدود اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ عام طور پر کمزور ڈالر دیگر کرنسیوں کے حامل خریداروں کے لیے ڈالر میں قیمت رکھنے والی اجناس کو نسبتاً سستا بنا دیتا ہے، جس سے سونے کی طلب کو سہارا مل سکتا ہے۔
پیپر اسٹون کے ریسرچ اسٹریٹجسٹ احمد عسیری نے کہا کہ اگر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں مہنگائی اور شرح سود میں اضافے کی توقعات کم ہوجاتی ہیں تو سونے اور تیل کی قیمتوں کے درمیان موجود تعلق کمزور پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی تنازع میں انتہائی شدت کے باعث اگر عالمی معیشت کساد بازاری سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر مجبور ہوجائے تو اس صورت میں بھی سونے اور تیل کے درمیان یہ تعلق کمزور ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر شرح سود کے بجائے مالیاتی بے ضابطگی اور مالیاتی عدم استحکام غالب آگیا تو سونے اور تیل کی قیمتوں کا باہمی تعلق مزید تبدیل ہوسکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باوجود تیل سستا، قیمتیں 1 فیصد مزید گر گئیں
دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے بدھ کو شرح سود میں اضافے اور آنے والے مہینوں میں مزید اضافوں کے اشارے نے سونے کی قیمتوں پر دباؤ کے امکانات بھی پیدا کیے ہیں۔
تاہم فیڈرل ریزرو کی سخت مانیٹری پالیسی کے باوجود گولڈمین سیکس نے 2027 کے اختتام تک سونے کی قیمت کا تخمینہ 5,400 ڈالر فی اونس پر برقرار رکھا ہے۔ بینک کے مطابق سخت مانیٹری پالیسی سے سونے کی قیمتوں میں تیزی کی رفتار سست ہوسکتی ہے، تاہم اس تیزی کے مکمل طور پر ختم ہونے کا امکان نہیں۔
سونا روایتی طور پر مہنگائی کے خلاف ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، تاہم بلند شرح سود اس کی طلب کو محدود کرسکتی ہے کیونکہ شرح سود میں اضافے کے نتیجے میں منافع دینے والے اثاثے سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش ہوجاتے ہیں۔
ادھر بینک آف انگلینڈ نے جمعرات کو شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا، تاہم خبردار کیا کہ مستقبل میں اسے شرح سود میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔
بینک آف جاپان بھی جمعہ کو شرح سود میں اضافے اور اسے 31 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچانے کی توقعات کے باعث سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہا۔ جاپانی مرکزی بینک کی جانب سے مہنگائی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کے عزم کا بھی امکان ظاہر کیا گیا۔
پیپر اسٹون کے ریسرچ اسٹریٹجسٹ احمد عسیری کے مطابق بلند شرح سود کا موجودہ ماحول قلیل مدت میں سونے کی قیمت میں اضافے کی گنجائش محدود کرسکتا ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر بانڈز کی شرح منافع میں اضافہ شرح سود کی توقعات کے بجائے مالیاتی اعتماد میں کمی، جنگ سے متعلق اخراجات اور بجٹ خسارے میں اضافے کی وجہ سے ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ڈالر کی قدر میں کمی بھی واقع ہوسکتی ہے، جو سونے کی قیمت کے لیے معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
دریں اثنا دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ اسپاٹ چاندی کی قیمت 0.7 فیصد اضافے کے بعد 65.61 ڈالر فی اونس ہوگئی اور یہ ہفتہ وار بنیاد پر بھی اضافے کی جانب گامزن رہی۔
پلاٹینم کی قیمت ایک فیصد اضافے کے بعد 1,785.80 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی، جبکہ پیلاڈیم کی قیمت 0.2 فیصد بڑھ کر 1,294.41 ڈالر فی اونس ہوگئی۔













جمعہ 18 ستمبر 2026 

