اسلام آباد: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پاسبان ترسیلات زر اسکیم کا افتتاح کر دیا۔ زرمبادلہ کے ذخائر اور فارن ایکسچینج کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے گئے، جمیل احمد
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مالیاتی شعبے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ مہنگائی میں کمی کے لیے بھی نمایاں اقدامات کیے گئے ہیں۔
کراچی میں پاسبان ترسیلات زر اسکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ قومی معیشت کے استحکام میں ترسیلات زر کا اہم کردار ہے، ترسیلات زر 41 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات بڑھانے کے لیے بینکاری سہولیات کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔
جمیل احمد نے کہا کہ پاسبان ریمیٹنس ریوارڈ سے متعلق آگاہی سب کے لیے ضروری ہے، ترسیلات زر میں مزید اضافے کے لیے بینکاری نظام کے ذریعے سہولیات کو بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کو فروغ دیا جا رہا ہے، اس وقت ملکی برآمدات 31 ارب ڈالر ہیں، تاہم رواں سال برآمدات میں توقع کے مطابق بہتری نہیں آئی، جس کے باعث برآمدات بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2023 میں معاشی شرح نمو میں کمی ہوئی جبکہ ملکی ضروریات پوری کرنے اور بیرونی کھاتے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے درآمدات کو محدود کیا گیا تھا۔ بعد ازاں حالات میں بہتری کے ساتھ مرحلہ وار درآمدات پر عائد پابندیاں کم کی گئیں۔
جمیل احمد کا کہنا تھا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اور فارن ایکسچینج کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے گئے۔ غیرقانونی ایکسچینج کی روک تھام کے لیے قانونی طریقہ کار اختیار کیا گیا اور خلافِ ضابطہ کام کرنے والی ایکسچینج کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں بند کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں کرنٹ اکاؤنٹ ایک بڑا مسئلہ تھا، بیرونی ادائیگیوں کا تناسب بڑھنے کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 18 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا اور زرمبادلہ کے ذخائر بھی دباؤ میں آگئے تھے۔ ان کے مطابق ایسے حالات کسی بھی ملک کے لیے مشکل مرحلہ ہوتے ہیں، جس کے بعد اسٹیٹ بینک نے زرمبادلہ کے ذخائر اور مارکیٹ کے استحکام کے لیے اقدامات کیے۔
جمیل احمد نے کہا کہ آج کی تقریب کا مقصد بینکنگ انڈسٹری میں نئے دور کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی میں پریس کانفرنس کے دوران بھی نئی ترسیلات اسکیم سے متعلق آگاہ کیا گیا تھا۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق پہلے ترسیلات زر کے لیے سوہنی دھرتی اسکیم موجود تھی، تاہم اسے فی الحال روک دیا گیا تھا اور اس کے بعد ایک نئی اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اب بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے علاوہ پاکستان میں مقیم وہ افراد بھی اس اسکیم کا حصہ بن سکیں گے جن کے پاس غیرملکی کرنسی موجود ہے۔
اسکیم کے تحت اپنی ترسیلات بینکاری ذرائع سے پاکستان بھیجنے والے صارفین کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ہر سال مجموعی طور پر 16 ارب روپے کے نقد انعامات دیے جائیں گے، اسکیم کے تمام اخراجات بینکاری صنعت برداشت کرے گی اور قومی خزانے پر اس کا کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔
اسٹیٹ بینک کی سرپرستی میں تشکیل دی گئی اس اسکیم کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو اس بات کی مزید ترغیب دینا ہے کہ وہ ترسیلات کی رقم اپنے پیاروں کو پاکستان میں بھجواتے وقت بینکاری کے باضابطہ ذرائع استعمال کریں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید بتایا کہ دو ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کی ہے، جو بیرونی مالیاتی صورتحال میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستان کی معیشت میں ترسیلات زر بیرونی مالیاتی ضروریات پوری کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کا اہم ذریعہ ہیں، جبکہ برآمدات سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ بھی بیرونی کھاتے کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
درآمدات میں کمی اور بعد ازاں مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی کے اقدامات کا تعلق بھی بیرونی ادائیگیوں اور زرمبادلہ کے دباؤ کو منظم کرنے سے رہا ہے۔
مزید پڑھیں:دیرینہ مسلم لیگی، سابق رکن قومی اسمبلی چوہدری محمد اشرف لیڈر انتقال کرگئے
اس تناظر میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے ترسیلات زر کو باضابطہ بینکاری ذرائع سے لانے، ایکسچینج کمپنیوں کی نگرانی اور برآمدات کے لیے مالیاتی سہولیات بہتر بنانے پر زور دیا جاتا رہا ہے۔













جمعہ 25 ستمبر 2026 

