مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام (Masjid al-Haram)کے قریب خودکش حملہ آور کی موجودگی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو سعودی حکام نے مسترد کردیا ہے۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق سعودی حکام نے کہا ہے کہ مسجد الحرام میں خودکش حملہ آور ہونے کی کوئی حقیقت نہیں ہے، تاہم ایک شخص کو راہ گیروں کو ہراساں کرنے اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
سعودی سیکیورٹی حکام نے جمعے کو امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ مقدس شہر میں ایک شخص کو راہ گیروں کو ہراساں کرنے اور ان میں خوف و ہراس پھیلانے پر گرفتار کیا گیا، جس کے خلاف فوری کارروائی کی گئی۔
📹 الجهات الأمنية في العاصمة المقدسة تقبض على شخص لمضايقته المارة وإثارة الهلع والفزع بينهم، وتم التعامل معه في حينه بشكل فوري. pic.twitter.com/rCTa1BSvzw
— الأمن العام (@security_gov) October 1, 2026
سعودی سرکاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے ان دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں کہ گرفتار شخص خودکش حملہ آور تھا۔
مزیدپڑھیں:صدر اور وزیراعظم کی میٹنگ میں گورنرراج سے متعلق کیا بات ہوئی؟ ناصر شاہ نے بتا دیا
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی حکام تصدیق کرتے ہیں کہ واقعے کے حوالے سے گردش کرنے والے دعوؤں میں کوئی حقیقت نہیں۔
حکام کی جانب سے گرفتار شخص کی شناخت یا اس کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
NEWS: Security authorities in Masjid Al Haram arrested a person for harassing passersby and causing fear and panic among them.
The individual was dealt with immediately, the necessary legal procedures were taken against him, and he was referred to the Public Prosecution.… pic.twitter.com/RCgI9qBBig
— Inside the Haramain (@insharifain) October 2, 2026
واضح رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا پر مختلف دعوے گردش کر رہے تھے کہ دھماکا خیز مواد سے بھری جیکٹ پہنے ایک مبینہ خودکش حملہ آور خانہ کعبہ کی جانب بڑھا، تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے گرفتار کرلیا۔
خانہ کعبہ مسجد الحرام کے وسط میں واقع ہے اور مسلمانوں کے لیے اسلام کا مقدس ترین مقام ہے۔
سعودی حکام کے وضاحتی بیان کے بعد خودکش حملہ آور سے متعلق گردش کرنے والی اطلاعات کی سرکاری طور پر تردید ہوگئی ہے۔













جمعہ 2 اکتوبر 2026 

