پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک دوسرے کے سیاسی و عسکری ونگ ہیں، اختیار ولی خان

Calender Icon ہفتہ 3 اکتوبر 2026

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے اطلاعات خیبرپختونخوا اختیار ولی خان(Ikhtiar Wali Khan) نے کہا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی کا گٹھ جوڑ سب کے سامنے ہے، پی ٹی آئی اور دہشتگرد تنظیمیں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی کو اپنا عسکری ونگ بنا رکھا ہے جبکہ ٹی ٹی پی نے پی ٹی آئی کو اپنا سیاسی ونگ بنا رکھا ہے۔ پی ٹی آئی اور دہشت گرد تنظیموں کے روابط کے شواہد سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ گزشتہ روز ویڈیو میں نظر آنے والے نوجوان کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔ ن کے مطابق یہ وہ لوگ ہیں جو مساجد اور عوام پر حملے کرتے اور خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دہشتگرد تنظیموں کی فنڈنگ اور اسپانسرنگ کرتی ہے جبکہ دہشتگرد تنظیموں کی سہولتکاری بھی کی جاتی ہے۔ پی ٹی آئی کی سرگرمیوں کو دہشتگرد تنظیموں سے جوڑتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذاکر اللہ کی تصاویر پی ٹی آئی کے کئی ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ساتھ موجود ہیں۔

اختیار ولی خان نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے مارچ، جلسوں اور دھرنوں میں خارجی عناصر کی شمولیت کے شواہد موجود ہیں، جبکہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران حفاظتی اقدامات کی وجہ دہشتگرد عناصر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی کو اپنا عسکری ونگ بنا رکھا ہے جبکہ ٹی ٹی پی نے پی ٹی آئی کو اپنا سیاسی ونگ بنا رکھا ہے۔ پی ٹی آئی اور دہشت گرد تنظیموں کے روابط کے شواہد سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

اختیار ولی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں موجودہ حکومت خارجیوں کی حکومت ہے، عوام کی نمائندہ نہیں، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کالعدم تنظیموں کے نمائندے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان واقعات اور سرگرمیوں سے باخبر یا بے خبر ہونے کے بارے میں وضاحت دیں۔

مزیدپڑھیں:9 مئی جیسی کوشش کچل دی جائے گی، خواجہ آصف کا پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق سخت انتباہ

انہوں نے جنید اکبر سے بھی صوبے میں جاری سرگرمیوں اور معاملات پر اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ اختیار ولی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے سیاسی رہنما بتائیں کہ وہ دہشتگردی کے واقعات اور سرگرمیوں پر کہاں کھڑے ہیں اور ناقابل تردید شواہد کو کیسے مسترد کیا جاسکتا ہے۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ ’عشقِ بانی‘ کی آڑ میں اسلام آباد پر یلغار اور 9 مئی جیسے واقعات کا کیا جواز ہے، جبکہ اسی آڑ میں اکتوبر اور 26 نومبر جیسے واقعات دہرائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن نہیں، دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے اور دہشتگردی کی لہر اور شہادتوں میں اضافہ تشویشناک ہے۔ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کی ذمہ داری حکومت اور کابینہ پر عائد ہوتی ہے اور قانون کی حکمرانی کے لیے حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ اب معاملہ سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک سے آگے بڑھ چکا ہے، پاکستان میں یہ سلسلہ مزید نہیں چلے گا۔ تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے جمہوریت پسند، قانون پسند اور امن پسند کارکن بھی اپنا مؤقف واضح کریں۔ مارچ اور ریلیوں کی آڑ میں انتشار کی سیاست مزید قبول نہیں کی جائے گی، جبکہ سیاسی جماعتوں کو اپنے تعلقات اور وابستگیوں سے متعلق قوم کو جواب دینا ہوگا۔