اسٹیٹ بینک نے ہاؤسنگ فنانس کیلئے جائیداد کی دستاویزات کی شرائط نرم کردیں

Calender Icon اتوار 11 اکتوبر 2026

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے ہاؤسنگ فنانس سے متعلق ضوابط میں ترمیم کرتے ہوئے جائیداد کی دستاویزات اور رہن کے طریقہ کار کو آسان بنا دیا ہے، جس کا مقصد گھر، اپارٹمنٹ یا پلاٹ کی خریداری کے لیے قرض حاصل کرنے والے صارفین کو سہولت فراہم کرنا اور بینکوں کے لیے یکساں طریقہ کار متعارف کرانا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق ہاؤسنگ فنانس کے ضابطہ پی آر ایچ ایف 7، جو ملکیتی دستاویزات اور ضمانتی انتظامات سے متعلق ہے، میں ترامیم کی گئی ہیں۔ نظرثانی شدہ قواعد کے تحت بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں (ڈی ایف آئیز) کو قرض کی ضمانت کے لیے صرف وہی ملکیتی اور جائیداد سے متعلق دستاویزات حاصل کرنا ہوں گی جو اسٹیٹ بینک کی مقرر کردہ فہرست میں شامل ہیں۔

نئے ضوابط کے مطابق دستاویزات وصول کرنے کے بعد متعلقہ بینک یا مالیاتی ادارہ قرض لینے والے صارف کو دستخط شدہ رسید فراہم کرنے کا پابند ہوگا، جس میں موصول ہونے والی تمام ملکیتی اور جائیداد سے متعلق دستاویزات کی تفصیلات درج ہوں گی۔ اس اقدام سے دستاویزات کی وصولی کا ریکارڈ برقرار رکھنے اور صارفین کو سہولت فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

50 لاکھ روپے تک ہاؤسنگ فنانس کے لیے اہم سہولت

اسٹیٹ بینک نے جائیداد کو رہن رکھنے کے طریقہ کار میں بھی سہولت فراہم کی ہے۔ سرکلر کے مطابق بینک یا مالیاتی ادارے سے مالی اعانت کے ذریعے خریدے گئے مکان، اپارٹمنٹ یا پلاٹ کو قرض فراہم کرنے والے ادارے کے حق میں غیر عدالتی یا رجسٹرڈ رہن کے ذریعے رہن رکھنا ہوگا۔

مزیدپڑھیں:وسیم اکرم ڈراموں میں انٹری کے لیے تیار، کس اداکارہ کے ساتھ نظر آئیں گے؟

تاہم، 50 لاکھ روپے تک کے ہاؤسنگ فنانس کے لیے بینک اور مالیاتی ادارے متعلقہ لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ریکارڈ میں جائیداد پر حقِ تصرف کی پابندی، یعنی لین (Lien)، درج کرکے بھی قرض فراہم کرسکتے ہیں۔

اس ترمیم کا مقصد ہاؤسنگ فنانس کے تحت ضمانتی انتظامات کو زیادہ آسان اور معیاری بنانا ہے، تاکہ صارفین کے لیے قرض حاصل کرنے کے عمل میں سہولت پیدا ہوسکے۔

سولر پینلز اور قابلِ تجدید توانائی کے لیے بھی سہولت

اسٹیٹ بینک نے قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے مالی اعانت کے قواعد میں بھی نرمی کی ہے۔ نظرثانی شدہ ضوابط کے تحت بینک اور مالیاتی ادارے بغیر کسی ضمانت کے یا نصب شدہ اثاثوں کو رہن رکھ کر مالی اعانت فراہم کرسکتے ہیں۔

ان اثاثوں میں سولر پینلز، انورٹرز، بیٹریاں اور دیگر متعلقہ آلات شامل ہیں۔ اس اقدام سے قابلِ تجدید توانائی کے نظام نصب کرانے کے خواہش مند صارفین کو مالی سہولت حاصل کرنے کے مزید مواقع مل سکتے ہیں۔

گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ پر بھی ہاؤسنگ فنانس ممکن

نظرثانی شدہ ضوابط کے تحت پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ یا دیگر صوبوں میں متعلقہ مجاز اتھارٹی کے جاری کردہ مساوی سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر بھی ہاؤسنگ فنانس فراہم کیا جاسکتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ سرٹیفکیٹس جائیداد کی ملکیت، قبضے اور حقِ ملکیت کی تصدیق کرتے ہیں۔ لہٰذا ایسے سرٹیفکیٹ کی حامل جائیداد کے لیے اضافی تاریخی ملکیتی ریکارڈ یا علیحدہ ملکیتی دستاویزات جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اس سہولت سے ان افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جنہیں روایتی ملکیتی دستاویزات کی تکمیل یا حصول میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

بینکوں کو نئے ضوابط پر عمل درآمد کی ہدایت

اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کو نظرثانی شدہ ضوابط پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ سرکلر کے مطابق سابقہ ہدایات میں سے وہ تمام احکامات برقرار رہیں گے جن میں ترمیم نہیں کی گئی۔

ان تبدیلیوں کا بنیادی مقصد ہاؤسنگ فنانس کے لیے درکار دستاویزات کی شرائط کو آسان بنانا، رہن کے طریقہ کار میں یکسانیت پیدا کرنا اور صارفین کے لیے قرض کے حصول کے عمل کو سہل بنانا ہے۔