نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) نے شہریوں کو رجسٹریشن اور شناختی خدمات کی سہولت ان کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس نئی ٹیبلٹ ڈیوائس کا استعمال شروع کردیا ہے۔
نادرا حکام کے مطابق یہ جدید ٹیبلٹس پاکستان میں تیار کروائے گئے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کے استعمال کا دائرہ بھی بڑھایا جا رہا ہے۔
ڈیوائس میں پاک آئی ڈی سافٹ ویئر موجود ہے، جس کے ذریعے نادرا کا متعلقہ افسر مختلف علاقوں میں جا کر شہریوں کی رجسٹریشن سے متعلق خدمات انجام دے سکتا ہے۔
جدید ٹیبلٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے ذریعے شہری کے فنگر پرنٹس، تصویر اور آئرس کیپچر کیے جا سکتے ہیں، جس سے بائیومیٹرک معلومات کے حصول اور شناختی عمل کو مزید آسان بنایا جا سکتا ہے۔
حکام کے مطابق نادرا کا ایک افسر یہ ٹیبلٹ لے کر مختلف علاقوں میں رجسٹریشن کی سرگرمیاں انجام دے سکتا ہے۔
خاص طور پر ایسی یونین کونسلز جہاں شہریوں کا رش زیادہ ہو یا کسی علاقے میں شناختی خدمات کے حصول کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہو، وہاں یہ موبائل سہولت فوری طور پر منتقل کی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
نادرا کے مطابق اگر کسی یونین کونسل میں شہریوں کا غیر معمولی رش سامنے آئے تو جدید ٹیبلٹ سے لیس افسر کو وہاں بھیجا جا سکتا ہے، جس سے شہریوں کو رجسٹریشن کے لیے طویل انتظار اور دور دراز مراکز کا رخ کرنے کی ضرورت کم ہوگی۔
اس نظام کا بنیادی مقصد نادرا کی خدمات کو روایتی مراکز تک محدود رکھنے کے بجائے ضرورت کے مطابق مختلف علاقوں تک منتقل کرنا اور شہریوں کو زیادہ سہل انداز میں شناختی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔
جدید بائیومیٹرک ٹیکنالوجی اور پاک آئی ڈی سافٹ ویئر سے لیس یہ ٹیبلٹس ڈیوائسز اسی موبائل اور شہری مرکزیت پر مبنی سروس ڈلیوری نظام کا حصہ ہیں۔













اتوار 18 اکتوبر 2026 

